کراچی: پاکستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (پی آئی ڈی سی ایل) کے افسران نے میئر مرتضیٰ وہاب سے ملاقات کی اور گرین لائن پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کو نئی منصوبہ بندی کے ساتھ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس ملاقات میں پروجیکٹ کی تاخیر کے مسائل حل کیے گئے، اور اب کام فوری طور پر شروع ہو کر ایک سال میں مکمل ہو جائے گا۔ نئی ڈیزائن میں نومائش چورنگی سے میونسپل پارک تک 1.8 کلومیٹر کا اضافی ٹریک شامل ہے، جس میں تین نئی بس اسٹیشنز بنائی جائیں گی۔ یہ فیصلہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی طرف سے روکے گئے کام کو بحال کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
ملاقات کی تفصیلات
پی آئی ڈی سی ایل کی ٹیم نے سندھ کے وفاقی ترجمان کے ہمراہ میئر کو نظر ثانی شدہ پلان پر بریفنگ دی۔ میئر مرتضیٰ وہاب نے یقین دلایا کہ پروجیکٹ اپنے منظور شدہ ٹائم لائن میں مکمل ہو گا۔ افسران نے بتایا کہ باقی تعمیراتی کام ایک سال میں ختم کر دیا جائے گا، اور ٹریفک سگنل پرائرٹی سسٹم متعارف کرایا جائے گا تاکہ بسوں کی رفتار بڑھ سکے۔
پروجیکٹ کی روک تھام کی وجوہات
ستمبر میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے وفاقی فنڈز سے چلنے والے اس پروجیکٹ کو روک دیا تھا، کیونکہ پی آئی ڈی سی ایل نے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کیا تھا۔ شہری قیادت نے وفاقی کمپنی کی مقامی ترقیاتی کاموں میں مداخلت پر سوال اٹھائے اور اصرار کیا کہ تمام کراچی پروجیکٹس میونسپل اتھارٹی کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے 11ویں قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس 4 دسمبر کو طلب کر لیا
نتیجہ
میئر مرتضیٰ وہاب اور بیرسٹر راجہ خالق الزمان انصاری اگلے ہفتے کام کی بحالی کا باضابطہ اعلان کریں گے۔ گرین لائن کا پہلا مرحلہ روزانہ 80,000 مسافروں کو خدمت فراہم کر رہا ہے، اور توسیع کھلنے پر یہ تعداد نمایاں طور پر بڑھ جائے گی۔ یہ پروجیکٹ کراچی کی ٹریفک مسائل حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
