کراچی کے مقبول علاقے گلستان جوہر بلاک 10 میں رات گئے اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے درجنوں جھونپڑیوں، خانہ بدوشوں کے سامان اور کئی موٹرسائیکلوں کو تباہ کر دیا۔ شاٹ سرکٹ کی وجہ سے شروع ہونے والا یہ حادثہ دو گھنٹے کی جدوجہد کے بعد بجھایا گیا، مگر کئی مویشیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ فائر بریگیڈ کی بروقت کارروائی سے بڑا المیہ ٹل گیا، لیکن متاثرین کی امداد کا مطالبہ بلند ہو گیا ہے۔
واقعہ کی تفصیلات
گلستان جوہر کے اس گنجان علاقے میں جھونپڑیوں کی ایک بستی ہے جہاں خانہ بدوش خاندان رہائش پذیر ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق، بجلی کی تاروں کے ٹکرانے سے شاٹ سرکٹ ہوا اور ایک جھونپڑی میں چنگاری پھیل گئی۔ چند لمحوں میں ہی آگ نے پڑوس کی کئی جھونپڑیوں کو لپیٹ لیا، جس سے دھواں اٹھنے لگا اور لوگ گھبراہٹ میں باہر نکل آئے۔ ابتدائی طور پر ایک فائر ٹینڈر موقع پر پہنچا، مگر آگ کی شدت دیکھتے ہوئے مزید چار گاڑیاں طلب کی گئیں۔
نقصان اور امداد کی صورتحال
آگ سے درجنوں جھونپڑیاں مکمل طور پر جل گئیں، جبکہ خانہ بدوشوں کا قیمتی سامان، کپڑے اور روزمرہ استعمال کی اشیاء بھی راکھ ہو گئیں۔ فائر آفیسر نے بتایا کہ کئی موٹرسائیکلیں اور مویشی بھی جھلس گئے، جن میں بھینسیں اور بکریاں شامل ہیں۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، مگر متاثرین نے امداد اور عارضی رہائش کا مطالبہ کیا ہے۔ ریسکیو حکام نے ابتدائی امداد فراہم کی، جبکہ مقامی این جی اوز نے کھانا اور پانی تقسیم شروع کر دیا۔
حکام کی ابتدائی رائے اور احتیاطی تدابیر
فائر ڈیپارٹمنٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ شاٹ سرکٹ جیسی معمولی غلطی بڑے حادثات کا سبب بن جاتی ہے، خاص طور پر غیر مستقل رہائش گاہوں میں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ بجلی کی تنصیبات کی باقاعدہ چیکنگ کروائیں اور آگ کے خطرات سے بچاؤ کے لیے احتیاط برتیں۔ شہری انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ متاثرین کو فوری امداد دی جائے گی اور علاقے کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سرحد پار دہشتگردی کیخلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، خواجہ آصف
نتیجہ: یہ حادثہ کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی اور بنیادی سہولیات کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ گلستان جوہر جیسے علاقوں میں خانہ بدوش کمیونٹیز کو مستقل حل فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے المناک واقعات کی تکرار روکی جا سکے۔ حکومت اور سول سوسائٹی کو مل کر ایسے متاثرین کی بحالی کو یقینی بنانا چاہیے، جو شہری زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔
