منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستانمین ہول میں بچہ گرنے کا واقعہ: فاروق ستار کی آمد پر...

مین ہول میں بچہ گرنے کا واقعہ: فاروق ستار کی آمد پر شہری برہم، گاڑی سے اترنے سے روک دیا

کراچی کے گلشن اقبال علاقے میں نیپا چورنگی کے قریب ایک کھلے مین ہول میں تین سالہ بچہ ابراہیم گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آ گیا، جس کی تلاش اب تک جاری ہے جبکہ شہریوں نے ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کے پہنچنے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں گاڑی سے اتارنے نہ دیا۔ ستار نے حکومت سندھ اور میئر کراچی کی غفلت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور کھلے گٹر شہر کی انتظامی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، اور متعدد بچے اسی طرح شکار ہو چکے ہیں مگر حکام کی آنکھیں بند ہیں۔ واقعہ اتوار کی رات گیارہ بجے کے قریب پیش آیا، جہاں ریسکیو ٹیموں کی ابتدائی کوششیں ناکام رہنے پر شہریوں نے خود ہیوی مشینری لگا کر کھدائی شروع کر دی ہے۔

واقعہ کی تفصیلات

گلشن اقبال کے نیپا پل کے قریب ایک مشہور ڈیپارٹمنٹل اسٹور سے شاپنگ مکمل کرنے کے بعد ابراہیم نبیل اپنے والدین کے ہاتھ چھڑا کر بھاگا تو اچانک کھلے مین ہول میں گر گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، گٹر کا ڈھکن عارضی طور پر گٹے سے بند کیا گیا تھا جو ٹوٹ گیا۔ فوری طور پر ریسکیو 1122 کی ٹیمیں پہنچیں، مگر گہرائی اور تاریکی کی وجہ سے تلاش ناکام رہی اور آپریشن روک دیا گیا۔ بچے کی والدہ شدید صدمے میں ہیں، اور علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہریوں نے انتظامیہ کی غفلت پر شدید ناراضی کا اظہار کیا، جو کراچی کی ٹوٹی سڑکوں اور کھلے گٹروں کی لاحقہ داستان کا حصہ ہے۔

شہریوں کا غصہ اور فاروق ستار کا ردعمل

شہریوں کا غصہ اس وقت عروج پر پہنچا جب ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار جائے وقوعہ پر پہنچے۔ مشتعل لوگوں نے نعرے لگاتے ہوئے ان کی گاڑی کو گھیر لیا اور اتارنے نہ دیا، جس پر ستار بغیر اترے ہی واپس لوٹ گئے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ واقعہ شہر کی صفائی اور انفراسٹرکچر کی تباہی کا آئینہ ہے، اور حکومت کی آنکھوں میں سب کچھ ٹھیک ہے حالانکہ بچوں کی جانیں داؤ پر لگ رہی ہیں۔ دوسری جانب، ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد نے نوٹس لے کر تحقیقات کا حکم دیا ہے، مگر شہریوں کا احتجاج جاری ہے جس میں ٹائر جلائے گئے اور سڑکیں بلاک کر دی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: نیپا چورنگی پر کھلے مین ہول میں گرنے والا 3 سالہ ابراہیم تاحال لاپتہ، تلاش جاری

تلاش کی تازہ صورتحال

اب تک بچے کا سراغ نہیں لگ سکا، مگر شہریوں کی مدد سے ہیوی مشینری کی مدد سے کھدائی تیز کر دی گئی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں دوبارہ متحرک ہو گئی ہیں، اور پولیس نے علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے نفری تعینات کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں ہزاروں کھلے مین ہولز شہریوں کی جان کا خطرہ بن چکے ہیں، اور فوری مرمت کی ضرورت ہے۔

نتیجہ: یہ واقعہ کراچی کی شہری انتظامیہ کے لیے انتباہ ہے کہ بنیادی سہولیات کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ معصوم جانیں ہیں۔ شہریوں کا احتجاج اور سیاسی ردعمل دباؤ بڑھا رہا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کب تک ایسے سانحات کا سلسلہ جاری رہے گا؟ حکام کو فوری اقدامات اٹھانے چاہییں تاکہ مزید خاندانوں کے دل نہ ٹوٹیں۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں