کراچی کے مصروف علاقے گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب اتوار کی رات تقریباً 11 بجے تین سالہ بچہ ابراہیم ولد نبیل کھلے مین ہول میں گر گیا۔ کئی گھنٹوں کی ریسکیو کوششوں کے باوجود بچہ نہ مل سکا، سرکاری مشینری کی عدم دستیابی پر ریسکیو آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا، جس کے بعد مشتعل شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہیوی مشینری منگوا کر کھدائی جاری رکھی۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
بچے کے والد نبیل کے مطابق وہ فیملی سمیت ڈیپارٹمنٹل سٹور سے شاپنگ کر کے نکلے تھے۔ موٹر سائیکل کھڑی کرتے وقت ابراہیم نے ہاتھ چھڑایا اور دوڑنے لگا، چند لمحوں میں آنکھوں کے سامنے کھلے مین ہول میں جا گرا۔ دادا محمود الحسن نے بتایا کہ ابراہیم والدین کا اکلوتا بیٹا ہے۔ ماں کا رو رو کر برا حال ہے، وقوعہ کے فوراً بعد وہ بے ہوش ہو گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے سنگین جرائم میں ملوث افغان شہریوں کی تصاویر جاری کردیں، ملک بدر کرنے کا بھی اعلان
شہریوں کا غم و غصہ اور احتجاج
ریسکیو آپریشن رکنے پر مشتعل شہریوں نے نیپا چورنگی پر ٹائر جلا کر سڑک بلاک کر دی۔ حسن اسکوائر، جامعہ کراچی اور گلشن چورنگی جانے والی شاہراہیں بند رہیں۔ غصے میں بعض افراد نے میڈیا وینز پر بھی پتھراؤ کیا۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ مزید مشینری فوری بھیجی جائے اور بچے کو جلد تلاش کیا جائے۔
سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کا ردعمل
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہا کہ مین ہول کا ڈھکن غائب ہونے کی انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور غفلت ثابت ہونے پر سخت کارروائی ہو گی۔ ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ریسکیو اداروں کو الرٹ کر دیا اور کے ڈبلیو ایس بی، واٹر کارپوریشن سمیت دیگر عملے کو موقع پر موجود رہنے کی ہدایت کی۔
اب تک تلاش جاری ہے اور عوام دعا گو ہیں کہ معصوم ابراہیم کو زندہ بازیاب کر لیا جائے۔
