کراچی ٹریفک پولیس کے ڈی آئی جی پیر محمد شاہ نے خبردار کیا ہے کہ بغیر ڈرائیونگ لائسنس موٹر سائیکل چلانے والوں پر اب 20 ہزار روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اپنے لائسنس کو اپ ڈیٹ رکھیں اور ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں، اب کسی کو بھی استثنیٰ نہیں ملے گا۔ شہر بھر میں تمام گاڑیوں کے لیے سپیڈ لمٹ 60 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے اور اس سے تجاوز کرنے پر جرمانہ ہوگا۔ یہ اعلان کراچی میں جدید فیس لیس ای چالان سسٹم کے آغاز کے موقع پر کیا گیا، جس کے پہلے دن صرف 6 گھنٹوں میں 2,662 ای چالان جاری ہوئے جن کی کل مالیت ایک کروڑ 25 لاکھ روپے سے زائد تھی۔ ان میں سے 419 اوور سپیڈنگ، 1,535 سیٹ بیلٹ نہ باندھنے، 507 ہیلمٹ نہ پہننے، 166 ریڈ لائٹ کی خلاف ورزی اور 3 لین کی خلاف ورزی کے تھے۔
جرمانوں کی تفصیلات
ڈی آئی جی پیر محمد شاہ کے مطابق، بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنے والوں پر سخت کارروائی کی جائے گی اور جرمانہ اب 20 ہزار روپے تک ہوگا۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے لائسنس کی تجدید بروقت کریں تاکہ غیر ضروری جرمانوں سے بچ سکیں۔ اس کے علاوہ، سپیڈ لمٹ کی خلاف ورزی پر بھی بھاری چالان جاری کیا جائے گا، جو شہر کی سڑکوں پر نظم و ضبط کو یقینی بنانے کا حصہ ہے۔ یہ اقدامات کراچی میں ٹریفک حادثات کو کم کرنے اور قوانین کی پابندی کو فروغ دینے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گیس کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا خدشہ، کمپنیوں نے اوگرا سے منظوری کی درخواست کر دی
ای چالان سسٹم کا آغاز اور کارکردگی
کراچی میں شروع ہونے والا یہ فیس لیس ای چالان سسٹم خودکار طور پر خلاف ورزیوں کا پتہ لگاتا ہے، جو انسانی مداخلت کے بغیر چالان جاری کرتا ہے۔ پہلے دن کی کارکردگی سے ظاہر ہے کہ یہ سسٹم موثر ہے، کیونکہ صرف چند گھنٹوں میں لاکھوں روپے کے جرمانے جاری ہوئے۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ سسٹم کو مزید اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ نگرانی کو مزید بہتر بنایا جا سکے اور شہر بھر میں روڈ ڈسپلن کو برقرار رکھا جا سکے۔ یہ اقدام سندھ حکومت کی جانب سے ٹریفک مینجمنٹ کو جدید بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حیدرآباد: ڈینگی سے نوجوان کی موت، سول اسپتال انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج
اختتامیہ
کراچی کے شہریوں کو اب ٹریفک قوانین کی پابندی کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تاکہ جرمانوں اور حادثات سے بچا جا سکے۔ یہ سسٹم نہ صرف قوانین کی خلاف ورزیوں کو کم کرے گا بلکہ شہر کی مجموعی روڈ سیفٹی کو بھی بہتر بنائے گا۔ حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات مستقبل میں مزید شہروں تک پھیلائے جا سکتے ہیں۔
