لاہور ہائیکورٹ نے شہر میں بڑھتی ہوئی سموگ کی صورتحال پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی تاخیر اور ناکامی پر تنقید کی ہے۔ عدالت نے اتوار کو ایک ماہ کے لیے تمام تجارتی سرگرمیاں بند کرنے، شادی ہالز اور مارکیٹوں کے لیے سخت اوقات کار نافذ کرنے کی تجویز دی ہے۔ جسٹس شاہد کریم نے کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ یہ اقدامات تین ماہ پہلے کیے جانے چاہیے تھے، جبکہ واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کو تعمیراتی منصوبوں میں غفلت پر سرزنش کی گئی۔ عدالت نے ماحولیاتی حکام کو موٹر سائیکلوں، رکشوں اور تھری وہیلرز کی مسلسل نگرانی کا حکم دیا اور کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی۔
عدالت کی تجاویز اور حکام کی سرزنش
لاہور میں ہوا کی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس پر جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشنز پر عملدرآمد نہ ہونے سے صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ عدالت نے اتوار کو شاپنگ مالز، مارکیٹوں اور دیگر تجارتی مراکز بند رکھنے کا حکم دیا تاکہ ٹریفک اور آلودگی میں کمی آئے۔ اس کے علاوہ شادی ہالز اور ریسٹورنٹس کے لیے رات 10 بجے بندش کی تجویز بھی دی گئی۔ یہ اقدامات سموگ کی شدت کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر نافذ کیے جائیں گے۔
ماحولیاتی اقدامات اور نگرانی
ماحولیاتی اتھارٹی کو موٹر سائیکلوں، رکشوں اور تھری وہیلرز کی مسلسل چیکنگ اور پٹرولنگ کا حکم دیا گیا ہے۔ جسٹس کریم نے متنبہ کیا کہ تاخیر کی وجہ سے شہریوں کی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ یہ اقدامات لاہور کی ہوا کو بہتر بنانے کے لیے اہم ہیں، جہاں سموگ کی وجہ سے صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے 636 بلین ڈالر مالیت کے سونے کے بڑے ذخائر کا انکشاف کیا ہے۔
نتیجہ
لاہور ہائیکورٹ کے یہ احکامات پنجاب میں سموگ کے بحران کو حل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔ اگر حکومت نے فوری عملدرآمد کیا تو شہریوں کی صحت اور ماحول بہتر ہو سکتا ہے۔ تاہم، طویل مدتی حل جیسے گرین ٹرانسپورٹ اور صنعتی آلودگی پر قابو پانا ضروری ہے۔ کیس کی اگلی سماعت جمعہ کو ہوگی، جہاں مزید پیشرفت کی توقع ہے۔
