لاہور: شہر میں سموگ کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے ٹریفک پولیس نے سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ چیف ٹریفک آفیسر لاہور ڈاکٹر اطہر وحید کے مطابق، شہر کی انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس پر خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں جبکہ فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر گاڑیوں کو شہر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ اکتوبر کے دوران 24 ہزار سے زائد ایسی گاڑیوں پر کارروائی کی گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔
کارروائی کی تفصیلات ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق، اکتوبر میں کل 24 ہزار 591 گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ نہ ہونے پر پکڑا گیا۔ اس کے علاوہ 17 ہزار سے زائد دھوئیں اگلنے والی گاڑیوں اور تقریباً 8 ہزار غیر محفوظ ٹرالیوں پر جو ریت یا مٹی لے جا رہی تھیں، جرمانہ عائد کیا گیا۔ یہ اقدامات سموگ کی شدت کو کم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں، جو شہر کی ہوا کو زہریلا بنا رہا ہے۔ ڈاکٹر اطہر وحید نے بتایا کہ شہر کی حدود میں داخل ہونے والی ہر گاڑی کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے تاکہ آلودگی کے ذرائع کو روکا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کے پی کا خیبر ٹیچنگ اسپتال میں صحت کارڈ کی بغیر اطلاع بندش کا نوٹس
شہریوں کے لیے اہم مشورے سی ٹی او لاہور نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی بروقت مینٹیننس یقینی بنائیں تاکہ سموگ کی روک تھام میں مدد مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ دھوئیں اگلنے والی گاڑیاں نہ صرف ہوا کو آلودہ کرتی ہیں بلکہ صحت کے لیے بھی خطرناک ہیں۔ ٹریفک پولیس آئندہ دنوں میں اپنی کارروائیوں کو مزید شدت دے گی، جس سے شہر کی صفائی اور صحت مند ماحول کو فروغ ملے گا۔
نتیجہ یہ کریک ڈاؤن لاہور کے لیے ایک مثبت قدم ہے، جو سموگ جیسے ماحولیاتی چیلنج سے لڑنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ شہریوں کی تعاون سے ہی شہر کو صاف ستھرا بنایا جا سکتا ہے۔ ٹریفک پولیس کی کاوشیں جاری رکھنے سے توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں سموگ کی شدت میں نمایاں کمی آئے گی، اور لاہور دوبارہ قابل رہائش ہو جائے گا۔
