مردان (نوا ٹائمز اردو، خصوصی رپورٹ) ـــ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ ٹیم نے مردان میں ایک بڑی سگریٹ فیکٹری پر چھاپہ مارا جہاں ٹیکس چوری کی مد میں 62 کارٹن غیر قانونی سگریٹ برآمد ہوئے۔ فیکٹری کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا اور مالکان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ فیکٹری سینیٹر دلاور خان سے تعلق رکھتی ہے۔
سیاسی دباؤ کے بغیر کارروائی
ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر ملک بھر میں جعلی اور ٹیکس چور سگریٹ بنانے والی فیکٹریوں کے خلاف بلاامتیاز آپریشن جاری ہے۔ مردان میں ہونے والی اس کارروائی کے دوران بھی کسی قسم کے سیاسی دباؤ کو قبول نہیں کیا گیا۔ ضبط کیے گئے سگریٹس پر نہ تو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ادا کی گئی تھی اور نہ ہی سیلز ٹیکس، جس کی مالیت کروڑوں روپے بنتی ہے۔
سینیٹر دلاور خان کا مؤقف
سینیٹر دلاور خان نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ کئی دن سے گاؤں نہیں گئے اور نہ ہی انہیں فیکٹری پر چھاپے کی کوئی اطلاع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی کارروائی ہوئی ہے تو وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں اسرائیلی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری، ڈرون حملے میں دو کمسن بھائی شہید
نتیجہ
حکومت کی ٹیکس چوری اور جعلی سگریٹ مافیا کے خلاف مہم تیزی سے جاری ہے۔ مردان کی یہ کارروائی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اب سیاسی اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر قانون نافذ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی کارروائیوں سے خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ ہوگا اور عوام کو نقلی سگریٹس سے ہونے والے نقصانات سے بھی تحفظ ملے گا۔
