کراچی (نواے ٹائمز اردو) – سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر نیپرا کی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم کراچی پہنچ گئی اور جماعت اسلامی کے وفد سے تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات میں کے الیکٹرک کی AT&C لاسز کی بنیاد پر کی جانے والی لوڈشیڈنگ کے دستاویزی شواہد پیش کیے گئے، نیپرا نے چند دنوں میں ابتدائی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ عوامی ریلیف تک قانونی اور عوامی جدوجہد جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ نے امریکا کو دنیا کا سب سے بڑا امداد دینے والا ملک قرار دیدیا
عدالتی احکام پر فوری عمل، ٹیم کراچی پہنچی
جماعت اسلامی کراچی کے نو ٹاؤن چیئرمینوں اور سٹی کونسلرز کی لوڈشیڈنگ کے خلاف دائر پٹیشن پر سندھ ہائی کورٹ نے نیپرا کو فوری تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ اسی حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے نیپرا اسلام آباد سے اعلیٰ وفد کراچی پہنچا۔ وفد میں کنوینر نوید الٰہی شیخ (ڈائریکٹر جنرل کنزیومر افیئرز)، سفیر حسین (ٹیکنیکل کنسلٹنٹ)، عرفان احمد شیخ (ایڈیشنل ڈائریکٹر مانیٹرنگ اینڈ انفورسمنٹ) اور عابد حسین (انچارج نیپرا ریجنل آفس کراچی) شامل تھے۔
جماعت اسلامی نے مکمل شواہد پیش کیے
ملاقات میں جماعت اسلامی کے نمائندگان نے کے الیکٹرک کی طرف سے نیپرا قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کے ثبوت، متاثرہ علاقوں کی فہرستیں اور عوامی شکایات کے دستاویزات پیش کیں۔ نیپرا ٹیم نے تمام مواد وصول کر لیا اور کہا کہ ابتدائی رپورٹ چند دنوں میں تیار کر کے عدالت میں جمع کرائی جائے گی۔
جماعت اسلامی کا عوام کے ساتھ کھڑا ہونے کا عزم
جماعت اسلامی کراچی کے وفد نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک شہریوں کو مکمل ریلیف نہیں مل جاتا اور کے الیکٹرک کی من مانیاں بند نہیں ہوتیں، قانونی، عدالتی اور عوامی سطح پر جدوجہد جاری رہے گی۔
یہ پیشرفت کراچی کے لاکھوں شہریوں کے لیے بڑی امید ہے کہ عدالت اور نیپرا کے ذریعے بالآخر کے الیکٹرک کی لوڈشیڈنگ کی پالیسی ختم ہو گی اور عوام کو سکھل کر سانس لینے کا موقع ملے گا۔
