لاہور: پنجاب سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی بی ڈی پنجاب) کے فلگ شپ پروجیکٹ سی بی ڈی این ایس آئی ٹی سٹی میں انفراسٹرکچر کی ترقی نے نئی رفتار پکڑ لی ہے۔ پاکستان کا پہلا اور سب سے بڑا آئی ٹی سٹی بننے والے اس منصوبے میں پیکج ون کے تحت سڑکوں کا کام 32 فیصد، سب گریڈ 79 فیصد، سب بیس 54 فیصد، ڈبلیو بی ایم 38 فیصد اور آسفالٹک بیس کورس 8 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ ڈرینج 73 فیصد، سیوریج 50 فیصد اور واٹر سپلائی 5 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ سی ای او عمران امین نے کہا کہ مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق یہ جدید آئی ٹی ایکو سسٹم وقت پر مکمل ہوگا۔
انفراسٹرکچر کی تیز رفتار ترقی
این ایس آئی ٹی سٹی، جو ڈی ایچ اے فیز سکس اور پی کے ایل آئی کے قریب واقع ہے، میں 24 گھنٹے کام جاری ہے۔ سڑکوں، یوٹیلیٹیز اور ڈرینج سسٹم کی ترقی سے یہ لاہور کا آئی ٹی ہب بننے جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں ٹریفک خلاف ورزیوں پر قابو پانے کے لیے "ون ایپ” کا آغاز
سی ای او عمران امین کا عزم
سی ای او عمران امین نے کہا، "ہم نہ صرف انفراسٹرکچر بنا رہے بلکہ پنجاب کو جدت اور سرمایہ کاری کا مرکز بنا رہے ہیں۔” یہ پروجیکٹ ڈیٹا سینٹرز، ٹیکنالوجی پارکس اور تحقیقاتی اداروں کے لیے تیار ہو رہا ہے۔
نتیجہ: سی بی ڈی این ایس آئی ٹی سٹی پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کا سنگ میل ثابت ہوگا، جو غیر ملکی سرمایہ کاری کھینچے گا اور لاکھوں نوکریاں پیدا کرے گا۔ صوبائی حکومت کی کاوشیں مستقبل کی سمارٹ شہری ترقی کی ضمانت ہیں۔
