منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستانافغان سرزمین سے دہشتگردی کے خاتمےکا مشن، پاک افغان مذاکرات کا اگلا...

افغان سرزمین سے دہشتگردی کے خاتمےکا مشن، پاک افغان مذاکرات کا اگلا دور آج ہوگا

اسلام آباد/استنبول (نوائے ٹائمز اردو) — پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے استنبول میں آج مذاکرات کا تیسرا دور شروع ہو رہا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو فوجی آپشن استعمال کرنا پڑے گا، جبکہ پاکستانی وفد نے ایک ہی مطالبہ دہرایا کہ افغانستان سے حملے بند ہونے چاہییں۔ ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات سے خطے میں امن کی نئی امید جاگئی ہے۔

پچھلے دور کی ناکامی اور آج کی تیاریاں

25 سے 30 اکتوبر تک استنبول میں ہونے والا دوسرا دور طویل اور بے نتیجہ رہا۔ افغان وفد بار بار کابل سے ہدایات لیتا رہا جس سے وقت ضائع ہوا۔ پاکستانی وفد واپسی کے لیے ایئرپورٹ پہنچ گیا تھا مگر ترکیہ کی درخواست پر آخری موقع دیا گیا۔ مشترکہ اعلامیے میں سیز فائر برقرار رکھنے، نگرانی کا نظام بنانے اور خلاف ورزی پر سزا کے اصول طے ہوئے، اور 6 نومبر کو اعلیٰ سطحی ملاقات پر اتفاق ہوا۔

آج پاکستانی وفد کی قیادت ڈی جی آئی ایس آئی کر رہے ہیں جبکہ افغان وفد کی سربراہی انٹیلی جنس چیف مولوی عبدالحق وثیق کر رہے ہیں۔ دونوں فریقین استنبول پہنچ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سمیت دنیا بھر میں رواں سال کے سب سے بڑے سپر مون کے دلکش نظارے

پاکستانی موقف: حملے بند ہوں، ورنہ جنگ

خواجہ آصف نے کہا کہ ”مذاکرات میں پیش رفت کا امکان ہو تب بات کی جاتی ہے، ورنہ وقت ضائع کرنے کا فائدہ نہیں“۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔ اگر ایک بھی حملہ ہوا تو پاکستان حملہ کرے گا، جنگ ہوگی۔

توقعات اور خطے پر اثرات

ذرائع کے مطابق آج نگرانی کے نظام کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اگر افغان طالبان دانشمندی دکھائیں تو دائمی امن ممکن ہے، ورنہ سرحد پر کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ترکیہ اور قطر کی ثالثی سے دونوں فریق سیز فائر برقرار رکھنے پر متفق ہیں۔

نتیجہ

آج کا دن پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے امتحان ہے۔ اگر دہشت گردی کا خاتمہ ہوا تو خطے میں امن کا نیا دور شروع ہوگا، ورنہ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ پاکستانی عوام امن چاہتے ہیں مگر اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں