پیر کو بنیادی وظائف کی فراہمی پروگرام (بئی ایس پی) کے تحت مفت سمز کی تقسیم کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا، جس میں ملک بھر کے سو سے زائد اضلاع میں آپریشنز کو وسعت دی گئی ہے۔ اب تک 112 ہزار 122 سمز مستحقین کو دستیاب کرا دیے گئے ہیں، جبکہ پروگرام کے سیکریٹری عامر علی احمد نے ہیڈ کوارٹرز میں پیش رفت کا جائزہ لیا۔ یہ اقدام غریب گھرانوں کو ڈیجیٹل مالیاتی رسائی فراہم کرنے کا حصہ ہے، جو شفاف ادائیگیوں کو یقینی بنائے گا۔
جائزہ میٹنگ اور نگرانی کا نظام
بئی ایس پی ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ جائزہ میٹنگ میں ٹیلی کام آپریٹرز، خصوصی مواصلاتی تنظیم (ایس سی او)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور نادرا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سیکریٹری نے ریئل ٹائم مانیٹرنگ ڈیش بورڈ کا معائنہ کیا، جو علاقائی اعداد و شمار کو تازہ ترین دکھاتا ہے۔ آفیشل بیان کے مطابق، یہ تقسیم ڈیجیٹل والٹ اکاؤنٹس کی طرف منتقلی کا حصہ ہے، جس سے 10 ملین مستحقین کو فائدہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مختلف مقدمات میں ضمانت 23 دسمبر تک بڑھا دی گئی
ڈیجیٹل والٹ کی طرف منتقلی اور مستقبل کے منصوبے
یہ مفت سمز کی تقسیم بئی ایس پی کی ڈیجیٹل والٹ اکاؤنٹس کی طرف منتقلی سے جڑی ہے، جو مارچ 2026 تک مکمل ہو جائے گی۔ اس سے لاکھوں خاندان پاکستان کے پھیلتے ہوئے ڈیجیٹل مالیاتی نیٹ ورک سے جڑ جائیں گے، جس سے ادائیگیاں شفاف، قابل اعتماد اور باعزت ہوں گی۔ پروگرام غریب خاندانوں کی مالی شمولیت کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔
نتیجہ: مالی شمولیت کی نئی راہیں
یہ اقدام پاکستان میں غربت کے خاتمے اور ڈیجیٹل انقلاب کا اہم سنگ میل ہے۔ بئی ایس پی کی اس کوشش سے نہ صرف مالی لین دین آسان ہوں گے بلکہ معاشی بااختیار بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ حکومت کی یہ پالیسی غریب طبقے کو مرکزی دھارے میں لانے کی طرف ایک مثبت قدم ہے، جو مستقبل کی فلاح و بہبود کی بنیاد رکھے گی۔
