کراچی: پاکستان کی وزارت بحری امور نے عالمی معیار کے شپ یارڈ کی تعمیر کے لیے چینی کمپنی کو پورٹ قاسم پر تیار جیٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وفاقی وزیر جنید انور چوہدری کے مطابق یہ منصوبہ سالانہ چھ جہازوں کی تعمیر کی صلاحیت رکھتا ہے اور پاکستان روپوں میں ادائیگی کرے گا، جبکہ دوسرے شپ یارڈ کی جگہ کا تعین بھی جاری ہے۔ یہ اقدام پاک-چین معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔
فیصلے کی تفصیلات
وزارت بحری امور نے حال ہی میں چینی کمپنی کے ساتھ معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت پورٹ قاسم کی تیار جیٹی شپ یارڈ کی بنیاد کے طور پر استعمال ہوگی۔ وزیر جنید انور چوہدری نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ یہ سہولت فوری طور پر دستیاب ہے، جو تعمیراتی عمل کو تیز کرے گی۔ اس منصوبے کا مقصد پاکستان کو بحری صنعت میں خودکفیل بنانا ہے، جہاں روایتی طور پر جہاز کی مرمت اور بریکنگ پر توجہ دی جاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے اپناسب سے وزنی مواصلاتی سیٹلائٹ مدار میں بھیج دیا
معاشی فوائد اور سرمایہ کاری
یہ شپ یارڈ نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرے گا بلکہ پاکستان کی برآمدات کو فروغ دے گا۔ چینی کمپنی کی شمولیت سے ٹیکنالوجی کی منتقلی ہوگی، جو مقامی صنعت کو جدید بنائے گی۔ حال ہی میں شاندونگ زینزو گروپ کی طرف سے تجویز کردہ میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس کے لیے ایک ہزار ایکڑ زمین مختص کی گئی ہے، جو پورٹ قاسم کو علاقائی ہب بنائے گا۔ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے جولائی 2025 کے ایم او یو کی توسیع یہاں نظر آ رہی ہے، جس سے سمندری تجارت میں اضافہ متوقع ہے۔
مستقبل کی منصوبہ بندی
دوسرے شپ یارڈ کی جگہ کا تعین بھی حتمی مراحل میں ہے، جو گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کو جوڑے گا۔ یہ اقدامات چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ ہیں، جو لاجسٹکس کو بہتر بنائیں گے۔
نتیجہ: یہ فیصلہ پاکستان کی بحری معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا، جہاں چینی شراکت داری سے ملنے والے فوائد قومی ترقی کا انجن بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام برآمدات میں 20 فیصد اضافہ لا سکتا ہے، جو معاشی استحکام کی ضمانت دے گا۔
