اسلام آباد: پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر دفاع کے سندھ سے متعلق غیر ضروری اور توسیع پسندانہ بیان کی سخت مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اسے حقیقت سے دوری اور خطرناک سوچ کا اظہار قرار دیا ہے، جو بین الاقوامی قوانین، سرحدوں اور ریاستی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بھارتی قیادت سے اشتعال انگیز بیانات سے گریز کا مطالبہ کیا، جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ساتھ ہی، بھارت سے اقلیتوں کے تحفظ اور تشدد پھیلانے والوں کے احتساب کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
بیان کی تفصیلات اور مذمت
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کا سندھ سے متعلق بیان نہ صرف بلاجواز ہے بلکہ یہ بھارتی حکومت کی توسیع پسندانہ ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے بیانات علاقائی استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں اور پڑوسی ملکوں کے درمیان اعتماد کو کمزور کرتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ پرامن بات چیت پر زور دیا ہے، مگر اس طرح کی اشتعال انگیزیاں امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
بھارتی شمال مشرقی علاقوں میں لوگ ریاستی تشدد، شناخت کی پامالی اور محرومی کا شکار ہیں، جو بھارتی پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ترجمان نے بھارت کو عقائد پر مبنی تعصب اور تاریخی تحریفات کو ختم کرنے کی تلقین کی۔
پاکستان کا مطالبہ اور کشمیر تنازعہ
ترجمان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کرے اور تشدد کے ذمہ داروں کا محاسبہ کرے۔ اس کے علاوہ، جموں و کشمیر کے تنازعے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔ پاکستان تمام مسائل کا پرامن حل چاہتا ہے مگر اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ضمنی انتخابات: مسلم لیگ ن کی شاندار فتح، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں قبضہ
نتیجہ
یہ واقعہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، مگر پاکستان کی جانب سے پرامن حل کی اپیل خطے کے استحکام کے لیے اہم ہے۔ بین الاقوامی برادری کو ایسے بیانات کی مذمت کرنی چاہیے تاکہ امن کی کوششیں کامیاب ہوں۔
