اسلام آباد: پیٹرولیم ڈویژن نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی شہری ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 96 روپے 28 پیسے ٹیکس ادا کر رہے ہیں جو کل قیمت کا 37 فیصد ہے، جبکہ ایک لیٹر ڈیزل پر 94 روپے 92 پیسے ٹیکس شامل ہیں جو 34 فیصد بنتے ہیں۔ یہ ٹیکس کسٹم ڈیوٹی، پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی کی مد میں عائد کیے جاتے ہیں۔
ٹیکس کی تفصیلی تقسیم
پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق، پیٹرول کی موجودہ قیمتوں میں ٹیکس کا حصہ نمایاں ہے۔ ایک لیٹر پیٹرول میں 37 فیصد ٹیکس شامل ہونے سے شہریوں پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں ٹیکس کی شرح 34 فیصد ہے، جو مجموعی طور پر قومی معیشت اور عام آدمی کی جیب پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ اعداد و شمار حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کیے جانے والے مختلف لیویز کو ظاہر کرتے ہیں، جو ملک کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں۔
ٹیکس کی اقسام اور اثرات
یہ ٹیکس کسٹم ڈیوٹی، پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی پر مشتمل ہیں، جو حکومت کی پالیسیوں کا حصہ ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ یہ لیویز ملک کی اقتصادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہیں، لیکن شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ مہنگائی کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور زراعت کے شعبوں میں ڈیزل کی قیمتوں سے متاثر ہونے والے افراد اس سے پریشان ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیم میں رہنے کیلئے ڈومیسٹک کھیلنے کی شرط، کوہلی ’وجے ہزارے‘ ٹرافی کھیلنے پر آمادہ
نتیجہ
یہ تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس حکومت کی آمدنی کا بڑا حصہ ہیں، لیکن شہریوں پر بوجھ کم کرنے کے لیے پالیسیوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی تیل کی قیمتیں کم ہونے پر ٹیکس میں کمی سے عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔
