پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان میں مقیم دہشت گرد گروہوں کی جدید اور غیر قانونی اسلحے تک آسان رسائی کو علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اجلاس میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسلحہ، جو غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد چھوڑ دیا گیا، دہشت گردوں کے ہاتھوں پاکستان اور دیگر پڑوسیوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے، جس سے ہزاروں بے گناہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
پاکستانی مندوب کا واضح بیان عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ داعش، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ماجد بریگیڈ جیسے گروہ افغانستان سے کھلے عام دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصدقہ رپورٹس کے مطابق یہ گروہ سرحد پار اسمگلنگ کے ذریعے جدید ہتھیار اور گولہ بارود پاکستان لے جا رہے ہیں، جو پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی سرحد پر پکڑے گئے اسلحے بھی انہی ذخائر سے منسلک ہیں جو 2021 میں امریکی انخلا کے بعد باقی رہ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ نئی تجارتی ڈیل کا اعلان کردیا
دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر افغانستان میں ان گروہوں کی سرگرمیاں نہ صرف پاکستان بلکہ پوری خطے کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ عاصم افتخار نے بتایا کہ ٹی ٹی پی جیسے تنظیموں کو اقوام متحدہ کی فہرست میں دہشت گرد تسلیم کیا گیا ہے، مگر ان کی حمایت اور فنڈنگ بیرونی عناصر سے مل رہی ہے۔ اس سے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ معاشی ترقی اور علاقائی استحکام بھی متاثر ہو رہا ہے۔ پاکستان نے سرحد کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کیے ہیں، مگر عالمی تعاون کے بغیر یہ جدوجہد ناکافی ہے۔
عالمی برادری سے فوری مطالبات نتیجہ: پاکستانی مندوب نے عالمی برادری، خصوصاً افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کی اسلحے تک رسائی روکی جائے اور بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ مؤثر پابندیاں اور نگرانی کے بغیر خطے میں دہشت گردی کا خاتمہ ناممکن ہے۔ پاکستان کی یہ آواز علاقائی امن کی بحالی کی طرف ایک اہم قدم ہے، جو تمام پڑوسیوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
