امریکی دفاعی وزارت پینٹاگون نے یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے مشہور ٹوماہاک کروز میزائل فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے امریکی دفاعی ذخائر پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا، تاہم حتمی منظوری صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دینی ہوگی۔
پینٹاگون کا یقین دہانی والا قدم
پینٹاگون نے وائٹ ہاؤس کو مطلع کیا ہے کہ ٹوماہاک میزائل کی فراہمی امریکی اسٹاک پر بوجھ نہیں ڈالے گی۔ یہ میزائل 1983 سے امریکی فوج کا حصہ ہیں اور ان کی رینج 2500 کلومیٹر تک ہے، جو روسی شہروں تک پہنچ سکتے ہیں۔ یوکرین کی فوج انہیں روس کے اندرونی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری، تازہ کارروائیوں میں مزید 3 فلسطینی شہید
ٹرمپ کی حالیہ مزاحمت اور روس کی خبردار
صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات میں واضح کہا کہ وہ یہ میزائل دینا نہیں چاہتے۔ ملاقات سے ایک روز قبل ولادیمیر پیوٹن سے فون کال پر بات کی، جنہوں نے تنبیہ کی کہ اس سے امریکا-روس تعلقات خراب ہوں گے اور میزائل ماسکو، سینٹ پیٹرز برگ جیسے شہروں تک پہنچیں گے۔
کیا بدل جائے گا جنگ کا منظر؟
اگر ٹرمپ منظوری دیتے ہیں تو یوکرین کی جنگی طاقت میں انقلاب آ سکتا ہے، لیکن اس کے بدلے میں روس کی جوابی کارروائی کا خطرہ بھی ہے۔ یوکرین روس جنگ میں یہ امریکی امداد اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
نتیجہ: یہ فیصلہ نہ صرف یوکرین کی دفاعی حکمت عملی بلکہ عالمی امن کے توازن کو متاثر کرے گا۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کی نگاہیں ٹرمپ پر جمی ہیں کہ کیا وہ تصادم بڑھائیں گے یا سفارت کاری کا راستہ اپنائیں گے۔
