اسلام آباد: عارف حبیب گروپ کی قیادت میں کنسورشیم نے قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے 75 فیصد شیئرز 135 ارب روپے میں خرید لیے، جبکہ چیئرمین عارف حبیب نے باقی 25 فیصد شیئرز بھی 90 دنوں میں حاصل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی بھی کنسورشیم میں شامل ہو گئی ہے اور ایئرلائن کو دوبارہ عالمی معیار کی بنانے کے لیے جہازوں کی تعداد بڑھائی جائے گی۔
نجکاری کا عمل اور بولی کی تفصیلات
حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کا شفاف عمل مکمل ہوا، جس میں عارف حبیب کنسورشیم نے کھلی نیلامی میں سب سے زیادہ 135 ارب روپے کی بولی لگا کر کامیابی حاصل کی۔ اس بولی سے حکومت کو براہ راست تقریباً 10 ارب روپے ملیں گے، جبکہ باقی رقم ایئرلائن کی بہتری اور توسیع پر خرچ ہوگی۔ عارف حبیب نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پہلے مرحلے میں جہازوں کی تعداد 38 سے بڑھا کر دوسرے مرحلے میں 64 تک لے جائی جائے گی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ایئرلائن پر تقریباً 190 ارب روپے کے قرضے ہیں، جبکہ اثاثوں کی مالیت 180 ارب روپے کے قریب ہے۔
مستقبل کے منصوبے اور کنسورشیم کی شمولیت
عارف حبیب نے کہا کہ کنسورشیم میں فوجی فرٹیلائزر کی شمولیت سے ایئرلائن کی مالی استحکام مزید مضبوط ہوگا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سخت محنت سے پی آئی اے کو سابقہ شان بحال کی جائے گی، جس سے نہ صرف ایئرلائن منافع بخش بنے گی بلکہ پاکستان کی مجموعی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ موجودہ حالات میں ایئرلائن کو چیلنجز کا سامنا ہے، مگر نئی سرمایہ کاری سے روٹس کی توسیع اور سروسز کی بہتری متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کا 149 واں یوم پیدائش، ملک بھر میں عام تعطیل
معاشی اثرات اور توقعات
یہ نجکاری ملک کی معیشت کے لیے اہم قدم ہے، کیونکہ پی آئی اے برسوں سے خسارے میں چلی آ رہی تھی۔ نئے مالکان کی جانب سے پیشہ ورانہ انتظام اور سرمایہ کاری سے ایئرلائن کو عالمی مقابلے کے قابل بنایا جا سکے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ عمل سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرے گا اور دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری کی راہ ہموار کرے گا۔
