اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل میں آج اہم پیشرفت ہوگی جب 75 فیصد حصص کے لیے بولیاں لگائی جائیں گی۔ نجکاری کمیشن کے مطابق، یہ بولیاں صبح 10 بجکر 45 منٹ سے 11 بجکر 15 منٹ تک جمع کی جائیں گی اور سہ پہر 3 بجکر 30 منٹ پر کھولی جائیں گی۔ یہ عمل شفاف طریقے سے ٹی وی پر براہ راست نشر کیا جائے گا، جبکہ کامیاب بولی دہندہ کو باقی 25 فیصد حصص خریدنے یا حکومت کے پاس چھوڑنے کا اختیار ہوگا۔
بولی کا عمل اور شفافیت
نجکاری کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ بولیاں مہر بند لفافوں میں جمع ہونے کے بعد ایک ڈبے میں رکھی جائیں گی۔ اس کے بعد کمیشن کا بورڈ ریفرنس قیمت طے کرے گا، جس کی منظوری کابینہ کمیٹی دے گی۔ اگر بولیاں ریفرنس قیمت سے زیادہ ہوں تو کھلی نیلامی ہوگی، ورنہ سب سے زیادہ بولی والے کو ترجیح ملے گی۔ یہ سارا عمل وزیر اعظم شہباز شریف کے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد قومی ائیر لائن کو موثر بنانا ہے۔
حکومت کا کردار اور مستقبل کی حکمت عملی
حکومت کے پاس پی آئی اے کے 25 فیصد حصص قیمتی اثاثے کے طور پر رہیں گے۔ بولی کے بعد 90 دنوں میں تمام قانونی کارروائیاں مکمل کی جائیں گی، اور مشیر نجکاری محمد علی پریس کانفرنس کریں گے۔ یہ قدم پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اہم ہے، خاص طور پر ائیر لائن کے خسارے کو کم کرنے کے لیے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے پیرا ملازمین کے لیے بھاری الاؤنس کی منظوری دے دی
نتیجہ
پی آئی اے کی نجکاری پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ عمل نہ صرف شفاف ہے بلکہ ملک کے مستقبل کے لیے ضروری بھی۔ حکومت کی جانب سے اسے کامیاب بنانے کی کوششیں جاری ہیں، جو ملکی ائیر لائن کو عالمی معیار پر لانے میں مدد دے گی۔
