پاکستان میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج سامنے آگئے ہیں، جن میں مسلم لیگ ن نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ قوم اسمبلی کی تمام چھ نشستوں اور پنجاب اسمبلی کی سات میں سے چھ پر ن لیگ کے امیدواروں نے میدان مار لیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی چھوڑی ہوئی نشستوں پر اسے بھاری دھچکا لگا۔ صرف مظفرگڑھ کی ایک صوبائی نشست پر پیپلز پارٹی کامیاب رہی۔ یہ نتائج عوام کی مسلم لیگ ن پر بڑھتی ہوئی اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔
قومی اسمبلی کے حلقوں میں ن لیگ کی فتوحات
قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن نے تمام حلقوں پر قبضہ جما لیا۔ سب سے بڑا اپ سیٹ ہری پور کے حلقہ این اے 18 میں دیکھنے کو ملا، جہاں ن لیگ کے بابر نواز خان نے ایک لاکھ 63 ہزار 996 ووٹوں سے پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ شہرناز عمر ایوب (جو عمر ایوب کی اہلیہ ہیں) کو 43 ہزار 776 ووٹوں کی برتری سے ہرایا۔ لاہور کے این اے 129 میں حافظ میاں محمد نعمان نے 63 ہزار 441 ووٹ لے کر ارسلان احمد کو شکست دی، جبکہ ڈیرہ غازی خان کے این اے 185 میں محمود قادر خان نے 82 ہزار 416 ووٹوں سے پیپلز پارٹی کے دوست محمد کھوسہ کو پیچھے چھوڑا۔ ساہیوال کے این اے 143 میں محمد طفیل جٹ اور فیصل آباد کے این اے 104 و 96 میں بالترتیب دانیال احمد اور بلال بدر چوہدری (جو طلال چوہدری کے بھائی ہیں) کامیاب ہوئے۔ یہ نشستیں پی ٹی آئی رہنماؤں کی نااہلی یا وفات کی وجہ سے خالی ہوئی تھیں۔
صوبائی اسمبلی کے نتائج: پنجاب میں ن لیگ کا دبدبہ
پنجاب اسمبلی کی سات نشستیں بھی ضمنی انتخابات میں لڑی گئیں، جن میں ن لیگ نے چھ پر کامیابی سمیٹ لی۔ میانوالی کے پی پی 87 میں علی حیدر نور خان نیازی نے 67 ہزار 986 ووٹ لے کر سابق قائد حزب اختلاف ملک احمد بھچر کی نشست جیت لی۔ فیصل آباد کے پی پی 98، 115 اور 116 میں آزاد علی تبسم، محمد طاہر پرویز اور احمد شہریار (جو رانا ثناء اللہ کے داماد ہیں) کامیاب ہوئے۔ ساہیوال کے پی پی 203 میں محمد حنیف اور سرگودھا کے پی پی 73 میں سلطان علی رانجھا نے بھی فتح حاصل کی۔ تاہم، مظفرگڑھ کے پی پی 269 میں پیپلز پارٹی کے میاں علمدار عباس قریشی نے 55 ہزار 611 ووٹوں سے ن لیگ کو ہرا دیا۔
سوشل میڈیا پر ردعمل: ضمنی انتخابات کی فتح پر سوشل میڈیا پر ن لیگ کے حامیوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ مثال کے طور پر، PML-N سوشل میڈیا ٹیم کے جنرل سیکریٹری محمد واصم کی پوسٹ میں لکھا گیا: "ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو شاندار کامیابی پر مبارکباد۔” (ایمبیڈ کرنے کے لیے:
یہ بھی پڑھیں: سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز، پاکستان کا زمبابوےکیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
نتیجے: سیاسی استحکام کی طرف قدم
یہ ضمنی انتخابات مسلم لیگ ن کی عوامی مقبولیت اور پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا ثابت ہوئے۔ خاص طور پر ہری پور جیسے اپ سیٹ نے حزب اختلاف کی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکومت کو اب مزید استحکام ملے گا، جبکہ اپوزیشن کو اپنے بیانیے پر غور کرنا پڑے گا۔ ویڈیو اپ ڈیٹ کے لیے دیکھیں: دنیا نیوز کی رپورٹ این اے 18 کے نتائج پر
