منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستانپولیس نے اڈیالہ جیل کے قریب عمران خان کی بہنوں اور اورکارکنوں...

پولیس نے اڈیالہ جیل کے قریب عمران خان کی بہنوں اور اورکارکنوں کا دھرنا ختم کرا دیا

راولپنڈی: اڈیالہ جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہنوں اور کارکنوں کا دھرنا پولیس نے واٹر کینن اور زبردستی کارروائی کے ذریعے ختم کرا دیا۔ ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر شروع ہونے والے اس احتجاج میں کئی کارکن گرفتار ہوئے، جبکہ عمران خان کی بہن علیمہ خان نے پولیس کو اپنا بھائی قرار دیتے ہوئے کارکنان کو پرسکون رہنے کی ہدایت دی۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی پر ملاقات کا کوئی امکان نہیں۔

دھرنے کی وجہ اور ابتدائی صورتحال

عمران خان کی بہنوں، علیمہ خان اور ان کی ہمسروں سمیت پی ٹی آئی کارکنوں نے اڈیالہ جیل انتظامیہ کی جانب سے ایک ماہ سے زائد عرصے سے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر احتجاج کیا۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ پچھلی ملاقات میں کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی تھی، اور عمران خان کو تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے، اس پر وضاحت طلب کی۔ دھرنا فیکٹری ناکے پر شروع ہوا جہاں پولیس نے بہنوں کو روکا، اور کارکنوں نے نعرے بازی کی۔ پی ٹی آئی چیئرمین بریسٹر گوہر بھی ملاقات کی کوشش میں ناکام رہے۔

پولیس کی کارروائی اور جھڑپیں

پولیس نے دھرنا ختم کرانے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا، جس سے مظاہرین بھگنے لگے۔ ذرائع کے مطابق، کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا، جبکہ پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ سینیٹر مشتاق احمد بھی اظہار یکجہتی کے لیے پہنچے تو وہ بھی واٹر کینن کی زد میں آ گئے۔ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پولیس نے پی ٹی آئی کی 14 سرکاری اور نجی گاڑیوں کو قبضہ میں لے لیا، جن میں سے پانچ واپس کر دی گئیں۔ علیمہ خان نے کہا کہ پولیس والے ہمارے بھائی ہیں، اور خواتین کی موجودگی کی وجہ سے کارکنان کو پیچھے ہٹایا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کا یوکرین کو انتخابات کرانےکا مشورہ

حکومتی موقف اور پی ٹی آئی کا ردعمل

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ملاقات قانونی بنیادوں پر بند ہے، اور خلاف ورزی پر اس کا ایک فیصد بھی امکان نہیں۔ دوسری طرف، پی ٹی آئی نے اسے سیاسی انتقام قرار دیا، اور کارکنوں نے سوشل میڈیا پر احتجاج جاری رکھا۔

نتیجہ: سیاسی تناؤ میں اضافہ

اس واقعے سے پاکستان کی سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں پی ٹی آئی ملاقات کے حق کا مطالبہ کرتی رہے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیاں احتجاج کو مزید ہوا دیں گی، اور عدالتی مداخلت کی ضرورت ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں