لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے پیر کو پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) میں زیر علاج پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے شاہ محمود کی صحت کا جائزہ لیا، جلد صحت یابی کی دعا کی اور موجودہ سیاسی صورتحال، سابق رہنماؤں کی ناراضگی اور عمران خان کی رہائی کے لیے رابطوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ ذرائع کے مطابق شوکت بسرا اور ظہیر بابر بھی موجود تھے، جبکہ سابق رہنما فواد چوہدری سمیت دیگر کی حالیہ ملاقاتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ملاقات کی تفصیلات اور صحت کی صورتحال
سلمان اکرم راجہ کی آمد پر شاہ محمود قریشی نے مسکراہٹ کا اظہار کیا اور پارٹی کی اندرونی صورتحال پر روشنی ڈالی۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی، جس میں پی ٹی آئی کی سابق قیادت کی کوششوں پر زور دیا گیا کہ سیاسی جماعتوں، خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے رابطے بڑھائے جائیں۔ شاہ محمود کی صحت میں بہتری آ رہی ہے، لیکن ڈاکٹروں نے مکمل آرام کی ہدایت کی ہے۔ یہ ملاقات پارٹی کے اندر اتحاد کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ناراض رہنما واپسی کی طرف اشارہ دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سہیل آفریدی کو تعاون کی پیشکش کی تھی، عطاتارڑ کا انکشاف
سابق رہنماؤں کی کوششیں اور ممکنہ رابطے
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی سابق قیادت، بشمول اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید اور عمر سرفراز چیمہ، نے بھی شاہ محمود سے ملاقات کی اور موجودہ سیاسی حالات پر بات چیت کی۔ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے دیگر جماعتوں اور بانی پی ٹی آئی سے رابطے تیز کیے جائیں۔ ملک میں سیاسی تناؤ کم کرنے کی حکمت عملی پر اتفاق ہوا، جس سے پارٹی کی اندرونی تقسیم ختم ہو سکتی ہے۔ یہ کوششیں پی ٹی آئی کو مضبوط بنانے کی طرف قدم ہیں۔
نتیجہ: سیاسی استحکام کی طرف قدم
یہ ملاقاتیں پی ٹی آئی کے لیے نئی امید کی کرن ہیں، جہاں سابق اور موجودہ رہنما مل کر ملک کی سیاسی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر یہ رابطے کامیاب ہوئے تو عمران خان کی رہائی اور پارٹی کی وحدت ممکن ہے، جو پاکستان کی مجموعی سیاست کو متاثر کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید اعلیٰ سطحی ملاقاتیں متوقع ہیں، جو درجہ حرارت کو کم کریں گی۔
