منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستانپنجاب نے واٹر فلٹریشن پلانٹس کے لیے نئے قوانین جاری کر دیے

پنجاب نے واٹر فلٹریشن پلانٹس کے لیے نئے قوانین جاری کر دیے

لاہور (نمائندہ نوائے ٹائمز) ـ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے صوبے بھر میں بوتل بند پانی تیار کرنے والے تمام کمرشل واٹر فلٹریشن پلانٹس کے لیے نئے سخت ضوابط نافذ کر دیے ہیں۔ اب ہر پلانٹ کو ہر ماہ فلٹر تبدیل کرنا، ویڈیو ثبوت بنانا اور پی ایف اے کے آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ کرنا لازمی ہوگا۔ ساتھ ہی ہر ماہ منظور شدہ لیبارٹری میں پانی کے نمونے کی ٹیسٹنگ بھی لازم قرار دے دی گئی ہے۔ 15 دسمبر 2025 تک تعمیل نہ کرنے والے پلانٹس کو مستقل بند کر دیا جائے گا۔ ڈائریکٹر جنرل پی ایف اے نے کہا کہ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، اس کی پاکیزگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

نئے ضوابط کی مکمل تفصیلات

نئی پالیسی کے تحت فلٹریشن سسٹم کے تمام فلٹرز کی ماہوار تبدیلی لازم ہے۔ ہر تبدیلی کی ویڈیو ریکارڈنگ، تاریخ اور تفصیلات کے ساتھ آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ ہر مہینے پانی کا نمونہ پی ایس کیو سی اے یا پی ایف اے کی منظور شدہ لیبارٹری میں ٹیسٹ کرانا ہوگا۔ یہ اقدامات اس لیے اٹھائے گئے ہیں کہ مارکیٹ میں دستیاب بوتل بند پانی میں گندگی، بیکٹیریا یا کیمیکلز کی آمیزش کے متعدد کیسز سامنے آئے تھے۔

ڈیڈ لائن اور سخت کارروائی

پی ایف اے نے تمام واٹر پلانٹ مالکان کو 15 دسمبر 2025 تک نئے فلٹر نصب کر کے پورٹل پر دستاویزات اپ لوڈ کرنے کی حتمی مہلت دے دی ہے۔ اس تاریخ کے بعد تعمیل نہ کرنے والے پلانٹس کو سیل کر کے قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ تمام ڈویژنز میں پانی اور دودھ کی جدید ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی جا رہی ہیں تاکہ فوری اور درست نتائج مل سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے مزید 10 شہروں میں عوامی ٹرانسپورٹ کے لیے برقی بسیں چلنے لگیں

عوامی صحت کے تحفظ کا عزم

یہ ضوابط عوام کو صاف اور محفوظ پانی فراہم کرنے کی جانب اہم قدم ہیں۔ ماہانہ فلٹر تبدیلی اور لازمی ٹیسٹنگ سے نہ صرف پانی کا معیار بلند ہوگا بلکہ غیر معیاری پلانٹس مارکیٹ سے غائب ہو جائیں گے۔ پی ایف اے کا یہ اقدام صوبے میں پینے کے پانی کے جاری بحران کے تناظر میں انتہائی بروقت اور ضروری ہے۔ عوام اب زیادہ بھ اطمینان سے بوتل بند پانی استعمال کر سکیں گے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں