لاہور: پنجاب حکومت نے ایک مذہبی تنظیم سے منسلک مساجد اور مدرسوں کے انتظامی اخراجات کے لیے 30 کروڑ روپے کی فنڈنگ منظور کر لی ہے، جو اکتوبر 2025 سے جون 2026 تک کے عرصے کے لیے تنخواہیں، بجلی، گیس اور دیگر آپریشنل لاگتوں پر خرچ کی جائے گی۔
فنڈنگ کی منظوری کا پس منظر
ذرائع کے مطابق ابتدا میں مذہبی تنظیم کی طرف سے مساجد اور مدرسوں کے لیے 74 کروڑ روپے کی درخواست کی گئی تھی۔ تاہم محکمہ خزانہ پنجاب کی طرف سے اعتراضات کے بعد یہ رقم کم کر کے 30 کروڑ روپے کر دی گئی۔ یہ فیصلہ محکمہ اوقاف کی نگرانی میں نافذ العمل ہو گا، جو ان اداروں کے انتظامی امور کو دیکھتا ہے۔ اس اقدام سے صوبے بھر میں مذہبی اداروں کی مالی استحکام کو فروغ ملے گا اور ان کی روزمرہ کی ضروریات پوری ہوں گی۔
اخراجات کی تفصیلات
یہ فنڈز خاص طور پر تنخواہوں، یوٹیلیٹی بلز اور دیگر انتظامی اخراجات پر استعمال ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ رقم اکتوبر 2025 سے جون 2026 تک کے نو ماہ کے عرصے کو کور کرے گی۔ محکمہ اوقاف اس فنڈنگ کی شفاف تقسیم اور استعمال کو یقینی بنائے گا، تاکہ کوئی بدعنوانی نہ ہو۔ یہ قدم مذہبی اداروں کی بہتری اور معاشرے میں ان کے کردار کو مضبوط کرنے کی طرف اٹھایا گیا ہے۔
مذہبی اداروں کی اہمیت
پنجاب میں ہزاروں مساجد اور مدرسے معاشرتی اور مذہبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حکومت کا یہ فیصلہ ان اداروں کو مالی طور پر مستحکم کرنے میں مدد دے گا، جس سے عوام کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے اقدامات سے مذہبی ہم آہنگی بھی بڑھے گی اور اداروں کی کارکردگی بہتر ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: وسطی میکسیکو میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ، 7 افراد ہلاک
نتیجہ
یہ فنڈنگ پنجاب حکومت کی مذہبی اداروں کی حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔ امید ہے کہ یہ رقم صحیح جگہ پر استعمال ہو گی اور صوبے کے مذہبی مراکز کی ترقی میں کردار ادا کرے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ اس کی نگرانی سخت کرے تاکہ عوامی وسائل کا بہترین استعمال ہو۔
