لاہور: محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر میں دفعہ 144 کے تحت عائد پابندیوں میں سات دن کی توسیع کر دی ہے، جو اب 15 نومبر تک نافذ العمل رہے گی۔ یہ فیصلہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور عوامی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، جس کے تحت احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیاں، دھرنے اور چار سے زائد افراد کے اجتماعات پر مکمل پابندی برقرار ہے، جبکہ شادی بیاہ، جنازوں اور تدفین جیسے ذاتی امور مستثنیٰ ہیں۔
پابندیوں کی تفصیلات اور اطلاق
نوٹیفکیشن کے مطابق، عوامی مقامات پر چار یا اس سے زائد افراد کے جمع ہونے، اسلحہ کی نمائش، لاؤڈ اسپیکر کا غیر ضروری استعمال، اور اشتعال انگیز، نفرت آمیز یا فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت و تقسیم پر سختی سے پابندی عائد ہے۔ سرکاری افسران، پولیس اہلکار اور عدالتیں ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں، جبکہ لاؤڈ اسپیکر صرف اذان اور جمعہ کے خطبے کے لیے اجازت یافتہ ہے۔ یہ اقدامات صوبے میں حالیہ سیاسی کشیدگی اور ممکنہ انتشار کو روکنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹر عرفان صدیقی شدید علیل، آج 27 ویں آئینی ترمیم کیلئے ووٹ کاسٹ نہیں کرسکیں گے
سیاسی حلقوں میں ردعمل
یہ توسیع سیاسی جماعتوں میں مخلوط ردعمل کا باعث بنی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اسے جمہوریت پر حملہ قرار دے رہی ہیں، جبکہ حکومتی حلقے اسے ضروری قدم بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ عوام کی حفاظت کے لیے ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی پابندیوں سے عوامی احتجاج کی راہ میں رکاوٹ ضرور آتی ہے، مگر طویل مدتی حل سیاسی مذاکرات میں ہے۔
نتیجہ: استحکام کی راہ
دفعہ 144 کی توسیع سے صوبے میں استحکام کی امید ہے، تاہم عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ قوانین کی پاسداری کریں تاکہ غیر ضروری تنازعات سے بچا جا سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ جلد از جلد سیاسی استحکام کے لیے اقدامات اٹھائے تاکہ روزمرہ زندگی معمول پر لوٹ آئے۔ یہ پابندیاں عارضی ہیں، مگر ان کا مقصد دیرپا امن ہے۔
