لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں آج ٹرانسپورٹرز نے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے، جس کی وجہ نئی ٹریفک آرڈیننس 2025 کے تحت عائد کیے جانے والے بھاری جرمانے ہیں۔ پاکستان ٹرانسپورٹ متحدہ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آرڈیننس کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ جب تک یہ واپس نہ لیا جائے، عوامی اور سامان کی نقل و حمل بالکل معطل رہے گی۔ ابتدائی مذاکرات ناکام رہے، جبکہ آئی جی پنجاب نے ہڑتال کی کال کو مسترد کرتے ہوئے قانون کی سختی سے عملداری پر زور دیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا شدید مطالبہ
ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق، ٹریفک آرڈیننس 2025 کے تحت جرمانوں کی شرح اتنی زیادہ ہے کہ یہ ان کے کاروبار کو تباہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بسوں، وینوں، لوڈرز اور رکشوں سمیت تمام قسم کی انٹرا سٹی، بین الاضلاعی اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ آج بند رہے گی۔ لاہور کی سڑکوں پر خالی بس اسٹینڈز اور بند دکانیں اس ہڑتال کی شدت کو ظاہر کر رہی ہیں۔
حکومت اور پولیس کا ردعمل
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے ہڑتال کی کال کو سختی سے مسترد کر دیا، اور کہا کہ مہذب معاشروں میں قانون کی خلاف ورزی کی بجائے اس پر عمل کی حمایت کی جاتی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ بغیر لائسنس ڈرائیونگ حادثات اور اموات کو دعوت دیتی ہے، خاص طور پر اسکول جانے والے بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ پولیس نے واضح کیا کہ بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے اور ٹریفک قوانین کی سختی سے نگرانی کی جائے گی۔
مذاکرات کی تازہ صورتحال
ٹرانسپورٹرز اور پنجاب حکومت کے درمیان پہلا مذاکراتی دور ناکام رہا، مگر اگلے دور کا اعلان ہو گیا ہے جو آج دوپہر دو بجے ہوگا۔ ایسوسی ایشن کے رہنما امیدیں باندھے بیٹھے ہیں کہ بات چیت سے کوئی حل نکل آئے گا، ورنہ ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: انڈونیشیا کے صدر سرکاری دورے پر آج پاکستان پہنچیں گے
ممکنہ اثرات اور آگے کا منظر
اس ہڑتال سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر لاہور، فیصل آباد اور ملتان جیسے شہروں میں جہاں نقل و حمل معطل ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جلد حل نہ نکلا تو معاشی نقصان بڑھ سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ٹرانسپورٹرز کی شکایات کو سنجیدگی سے لے اور آرڈیننس میں نظر ثانی کرے تاکہ قانون اور معیشت کا توازن برقرار رہے۔
