کیف: روس نے یوکرین کے توانائی کے مراکز اور رہائشی علاقوں پر رات بھر درجنوں میزائل اور ڈرونز کے حملے کیے، جس کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ ان حملوں سے کئی شہروں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی، جبکہ یوکرینی فضائیہ نے روسی حملہ آوروں کا بڑا حصہ تباہ کر دیا۔ صدر زیلنسکی نے ان واقعات کے بعد مغربی پابندیوں میں نرمی کی سختی سے مخالفت کی ہے۔
حملوں کی تفصیلات اور انسانی نقصان
روس کی جانب سے یوکرین بھر میں 25 مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں دارالحکومت کیف، ڈنپرو، زاپورززیا اور خارکیف شامل ہیں۔ ڈنپرو شہر میں ایک رہائشی عمارت پر میزائل حملے سے دو افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوئے، جبکہ زاپورززیا میں تین شہری جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یوکرینی حکام کے مطابق یہ حملے رہائشی آبادیوں اور توانائی کی تنصیبات پر مرکوز تھے، جس سے شہری زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ, چڑیا گھر مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم
دفاعی کوششیں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے 450 سے زائد ڈرونز اور 45 میزائل داغے، لیکن ان میں سے 406 ڈرونز اور نو میزائل مار گرائے گئے۔ اس کے باوجود خارکیف اور کیف کے علاقوں میں بڑی پاور پلانٹس کو شدید نقصان پہنچا، جس سے کئی علاقوں میں بجلی کی سپلائی رک گئی۔ یوکرینی وزارت توانائی کے مطابق بحالی کے کام تیزی سے جاری ہیں، مگر سردیوں میں یہ نقصان شہریوں کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ ان کی افواج نے 79 یوکرینی ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
روسی حکام کا موقف
روس کا کہنا ہے کہ یہ حملے یوکرینی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، خاص طور پر توانائی کے مراکز جو فوجی آپریشنز کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم یوکرینی افسران اسے شہریوں پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہیں، جو جنگ کے انسانی پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔
نتیجہ: زیلنسکی کا سخت موقف
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روس کے توانائی شعبے پر مغربی پابندیوں میں کوئی نرمی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ انہیں مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بیان بین الاقوامی برادری سے مدد طلب کرنے کا ایک واضح اشارہ ہے، جو روس یوکرین تنازعے کو مزید طول دے سکتا ہے۔ پاکستانی قارئین کے لیے یہ یاد دلاتا ہے کہ عالمی تنازعات توانائی کی قیمتیں اور علاقائی استحکام کیسے متاثر کرتے ہیں۔
