اسلام آباد (نوا ٹائمز اردو) — روس نے 55.5 ملین روپے کے نادہندہ بقایا جات کی وجہ سے اگست 2025 سے پاکستان پوسٹ کی ڈاک خدمات معطل کر دی ہیں۔ وفاقی وزیر برائے مواصلات عبد العلیم خان نے قومی اسمبلی میں تحریری جواب جمع کرایا ہے کہ یہ بقایا جات 2021 سے ادا نہیں کیے گئے، جس پر روسی پوسٹ نے یکطرفہ طور پر خدمات روک دیں۔
بقایا جات کی تفصیلات اور پس منظر
وزیر مواصلات کے مطابق پاکستان پوسٹ پر روسی ادارے کے کل 55.5 ملین روپے واجب الادا ہیں۔ نومبر 2021 تک مختلف بین الاقوامی اداروں کے نام پر پاکستان پوسٹ کے 310 ملین روپے سے زائد بقایا جات زیر التوا تھے۔ روسی پوسٹ نے بارہا یاد دہانیوں کے باوجود ادائیگی نہ ہونے پر خدمات معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔
حکومت کا موقف اور بحالی کے اقدامات
عبد العلیم خان نے اسمبلی کو بتایا کہ فنڈز فراہم ہوتے ہی بقایا جات فوری ادا کر دیے جائیں گے اور روسی پوسٹ سے رابطہ کر کے خدمات بحال کر لی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی مسائل کی وجہ سے کئی بین الاقوامی ڈاک اداروں کے بقایا جات جمع ہو گئے ہیں، جنہیں مرحلہ وار کلیئر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں زبردست اضافہ
نتیجہ
پاکستان پوسٹ کی روسی خدمات کی معطلی سے تارکین وطن اور کاروباری افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ڈاک اداروں کے بقایا جات جلد ادا نہ کیے گئے تو مزید ممالک خدمات روک سکتے ہیں۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ چند ہفتوں میں یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔
