منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستانپاکستانی کسانوں نے آلودگی پھیلانے پر جرمن کمپنیوں کے خلاف مقدمہ دائر...

پاکستانی کسانوں نے آلودگی پھیلانے پر جرمن کمپنیوں کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا

سندھ کے 43 کسانوں نے 2022 کے سیلابوں سے تباہ ہونے والی فصلوں اور زمینوں کے نقصان کی تلافی کے لیے جرمنی کی آلودی کمپنیوں آر ڈبلیو ای (RWE) اور ہائیڈلبرگ میٹریلز (Heidelberg Materials) کو قانونی نوٹس بھیج دیے ہیں۔ کسان دسمبر میں مقدمہ دائر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں اور 10 لاکھ یورو سے زائد معاوضہ مانگ رہے ہیں۔

کسانوں کی شکایت اور مطالبات

کسانوں کا کہنا ہے کہ ان کی زمینیں ایک سال تک زیر آب رہیں، چاول اور گندم کی فصلیں مکمل طور پر ضائع ہو گئیں۔ وہ کہتے ہیں، "ہم نے موسمیاتی بحران میں سب سے کم حصہ ڈالا مگر سب سے زیادہ نقصان اٹھایا، جبکہ امیر ممالک کی کمپنیاں منافع کما رہی ہیں۔” یورپی سینٹر فار کنسٹی ٹیوشنل اینڈ ہیومن رائٹس (ECCHR) کی مدد سے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

2022 سیلاب کی تباہ کن صورتحال

عالمی کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق پاکستان اس سال موسمیاتی آفات سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک تھا۔ شدید بارشوں نے ملک کا ایک تہائی حصہ ڈبو دیا، 1700 سے زائد جانیں گئیں، 3 کروڑ 30 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے اور 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ سندھ کے کئی اضلاع ایک سال تک پانی تلے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی پابندیوں سے فلسطینیوں کو خوراک اور پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے:اونروا

جرمن کمپنیوں کا ردعمل

کمپنیوں نے نوٹس موصول ہونے کی تصدیق کی ہے اور اس پر غور کر رہی ہیں۔ یہ مقدمہ موسمیاتی انصاف کی عالمی مہم کا حصہ ہے۔

نتیجہ: یہ اقدام غریب ممالک کے لیے بڑی امید ہے کہ آلودی کرنے والوں کو جواب دہ بنایا جائے۔ پاکستانی کسانوں کی جدوجہد موسمیاتی تبدیلی، سندھ سیلاب اور کلائمیٹ جسٹس کی اہم لڑائی ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں