کراچی: سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے دریائے سندھ پر تعمیر ہونے والے غوٹکی-کنڈکوٹ پل کے کام کو نوامبر ۲۰۲۵ تک دوبارہ شروع کرنے اور ۲۰۲۶ تک مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف منسٹر ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں انہوں نے کہا کہ یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا سنگ میل پروجیکٹ ہے جو غوٹکی اور کنڈکوٹ کو جوڑے گا اور سندھ، پنجاب، بلوچستان کے درمیان سڑک رابطوں کو مضبوط بنائے گا۔
پل کی تفصیلات اور اہمیت
یہ پل کل ۱۲.۱۵ کلومیٹر لمبا ہوگا جس میں غوٹکی جانب ۱۰.۴۰ کلومیٹر اور کنڈکوٹ جانب ۸.۱۰ کلومیٹر اپروچ روڈز شامل ہیں، جبکہ تھل لنک روڈ ۴.۵۵ کلومیٹر کا ہے۔ وزیراعلیٰ کے خصوصی معاونِ سرمایہ کاری سید قاسم نوید قمر نے مئی میں اسے ساؤتھ ایشیا کا سب سے لمبا دریائی پل قرار دیا تھا۔ یہ پروجیکٹ علاقائی انضمام اور معاشی ترقی کا باعث بنے گا، سفر کا فاصلہ ۱۴۹ کلومیٹر سے کم کرکے ۳۰ کلومیٹر کر دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کو 5.68 بلین روپے کے اربوں روپے کے نئے سڑک کے منصوبے مل گئے
حکام کو فوری ہدایات
وزیراعلیٰ نے کاموں و خدمات محکمے، پولیس، رینجرز اور ضلعی انتظامیہ کو ہفتہ وار رپورٹس دینے اور زمین کے معاوضے فوری تقسیم کرنے کا حکم دیا۔ ۷۳۲ میں سے ۳۷۹ پایلز، ۳۶۰ شافٹس اور دیگر کام مکمل ہو چکے ہیں۔ سیکیورٹی کے لیے رینجرز اور پولیس کی تعیناتی بڑھائی جائے گی۔ مراد شاہ نے کہا، "یہ اپر سندھ کی معیشت بدل دے گا۔”
نتیجہ: ترقی کا نیا دور
غوٹکی-کنڈکوٹ پل سندھ حکومت کی انفراسٹرکچر کی سنجیدگی کی علامت ہے۔ اس کی تکمیل سے تجارت فروغ پائے گی، صنعتی ترقی ہوگی اور تین صوبوں کا رابطہ مضبوط ہوگا۔ سندھ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مزید پروجیکٹس کا وعدہ۔
