منگل, مارچ 3, 2026
Homeتعلیمسندھ میں سرکاری جامعات سے فیکلٹی ممبران کو انتظامی عہدوں سے ہٹانے...

سندھ میں سرکاری جامعات سے فیکلٹی ممبران کو انتظامی عہدوں سے ہٹانے کا حکم جاری

سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے صوبے کی تقریباً 30 پبلک یونیورسٹیوں میں تمام فیکلٹی ممبران کو غیر تدریسی اور انتظامی عہدوں سے فوری طور پر ہٹانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ حکم سندھ ہائی کورٹ اور پاکستان کی سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں دیا گیا ہے، جس میں وائس چانسلرز کو آٹھ دنوں میں تعمیل کی ہدایت کی گئی ہے اور غیر تعمیل کی صورت میں ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر ہوگی۔

عدالتی احکامات کی روشنی میں

سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ناہید جے حیدر کی جانب سے جاری خط میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اقدام حیدرآباد سرکٹ کورٹ کے 9 دسمبر 2025 کے حکم اور سپریم کورٹ کے 11 نومبر 2024 کے فیصلے کی بنیاد پر ہے۔ عدالتوں نے حکم دیا ہے کہ انتظامی عہدوں کو قانون کے مطابق بھرا جائے اور عارضی انتظامات ختم کیے جائیں۔ فیکلٹی ممبران کو رجسٹرار، کنٹرولر امتحانات، کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے ڈائریکٹرز یا دیگر عہدوں پر تعینات نہیں کیا جا سکتا، چاہے یہ اضافی چارج ہو یا اپنے تنخواہ کے پیمانے پر۔

یونیورسٹیوں پر ممکنہ اثرات

کئی وائس چانسلرز نے مالی مسائل کی وجہ سے فیکلٹی کو انتظامی ذمہ داریاں دینے کا جواز پیش کیا تھا، کیونکہ اس سے اضافی تنخواہوں کی ادائیگی نہیں ہوتی۔ تاہم، کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ایسی پریکٹس اب ناقابل قبول ہے۔ یہ حکم سندھ کی اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی حکمرانی اور عملے کی ساخت پر گہرے اثرات مرتب کرے گا، جس سے خالی عہدوں کو مستقل بنیادوں پر بھرنے کی ضرورت پڑے گی۔

یہ بھی پڑھیں: HONRI VE کی قیمت میں بڑی کمی کر دی گئی

نتیجہ

یہ حکم سندھ کی پبلک یونیورسٹیوں میں شفافیت اور قانونی تعمیل کو یقینی بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ کمیشن نے وارننگ دی ہے کہ غیر تعمیل کی صورت میں تمام نتائج یونیورسٹی انتظامیہ کو بھگتنا ہوں گے۔ اس سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کی توقع کی جا رہی ہے، جو طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں