راولپنڈی: خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کے قریب گورکھ پور ناکے پر دھرنا ختم کردیا۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر شروع کیا گیا یہ احتجاج اپوزیشن اتحاد کی قیادت سے مشاورت کے بعد ختم ہوا، جہاں منگل کو فیملی ملاقات کے موقع پر دوبارہ آنے اور کارکنوں کو کال دینے پر اتفاق ہوگیا۔ اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملاقات نہ کرانے پر عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔
دھرنے کا آغاز اور وجوہات
سہیل آفریدی رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک اور صوبائی وزراء سمیت عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل پہنچے تو پولیس نے انہیں گورکھ پور ناکے پر روک لیا۔ موقع پر موجود پولیس افسران سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ ساڑھے چار کروڑ عوام کے نمائندہ ہیں اور آٹھویں بار جیل آ رہے ہیں، لیکن ملاقات کیوں نہیں دی جارہی؟ انہوں نے کہا کہ ایک صوبے کی تذلیل کی جارہی ہے، اگر ہم بھی ایسا سلوک کریں تو کیسا لگے گا؟ اس کے بعد انہوں نے دھرنا دے دیا جو چار گھنٹے جاری رہا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش: سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو کرپشن کیس میں 21 سال قید کی سزا
اپوزیشن اتحاد کی مشاورت اور فیصلہ
ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے اپوزیشن اتحاد کو دھرنے سے آگاہ نہیں کیا تھا، چار گھنٹے بعد رابطہ کرکے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرانے کی خواہش ظاہر کی۔ علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی سے مشاورت میں منگل کو دوبارہ آنے پر اتفاق ہوا۔ محمود اچکزئی نے میڈیا کو بتایا کہ صبح کی ملاقات نہ ہونے پر عدالت جائیں گے۔
نتیجہ اور آئندہ لائحہ عمل
یہ واقعہ پاکستان کی سیاسی کشمکش کو ظاہر کرتا ہے جہاں اپوزیشن لیڈرز کو جیل میں قید رہنماؤں سے ملنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ منگل کو دوبارہ آنے کی تجویز سے لگتا ہے کہ احتجاج جاری رہے گا، جو ملک بھر میں پی ٹی آئی کی حمایت کو مزید متحرک کرسکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن عدالت کا فیصلہ اہم ہوگا۔
