منگل, مارچ 3, 2026
Homeعالمیبجلی کمپنیوں کی جانب سے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین پر مقررہ فیس...

بجلی کمپنیوں کی جانب سے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین پر مقررہ فیس لگانے کی تجویز

قومی بجلی ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی عوامی سماعت میں ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (جیپکو) نے شمسی نیٹ میٹرنگ صارفین پر فکس چارجز عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے، تاکہ قومی بجلی نیٹ ورک کو بھاری مالی نقصانات سے بچایا جائے۔ توانائی کی وزارت (پاور ڈویژن) نے بھی اس کی حمایت کی ہے، جبکہ مہنگے بجلی کے ریٹس کی وجہ سے گھروں اور کاروباروں کی شمسی توانائی کی طرف مائل ہونے سے گرڈ پر انحصار کم ہو رہا ہے، جس کا بوجھ باقی صارفین پر پڑ رہا ہے۔ حکومت نے پہلے بیک ریٹ کم کرنے کی کوشش کی تھی مگر عوامی ردعمل پر وزیراعظم شہباز شریف نے روک دیا۔

سماعت میں اہم نکات

نیپرا نے جیپکو اور میپکو کی مالی سال 2025-26 سے 2029-30 تک کی کثیر السالہ ٹیرف پٹیشنز پر الگ الگ سماعتیں کیں۔ میپکو اور جیپکو کے نمائندوں نے بتایا کہ شمسی صارفین کی بڑھتی تعداد سے گرڈ کی صلاحیت ادائیگیاں متاثر ہو رہی ہیں، جو باقی صارفین پر عائد ہو جاتی ہیں۔ پاور ڈویژن کے افسران نے کہا کہ مہنگے ریٹس سے قومی طلب کم ہوئی، جس سے اضافی ایل این جی اسٹاک ضائع ہو رہا ہے۔ حکومت نے اضافی بجلی استعمال پر رعایتی ریٹس کا اعلان بھی کیا تاکہ شمسی کی طرف مزید منتقلی روکی جائے۔

مالی چیلنجز اور کمپنیوں کی شکایات

پاور کمپنیوں کا کہنا ہے کہ شمسی نیٹ میٹرنگ سے گرڈ کی آمدنی کم ہو رہی ہے، جبکہ میپکو نے اپنے سالانہ وصولی ہدف کو پورا کرنے کا دعویٰ کیا مگر تسلیم کیا کہ بلڈ رقم کا کچھ حصہ تاخیر سے وصول ہوتا ہے اور ہر سال نو سو ملین روپے ناقابل وصول ہو جاتے ہیں۔ جیپکو پر جدید میٹرز کی تنصیب بغیر اجازت کے الزام بھی لگا، جبکہ میپکو نے ڈسکنکشن اور قانونی کارروائیوں کے باوجود وصولی مسائل کا ذکر کیا۔ یہ تجاویز قومی شمسی توانائی پالیسی کو متاثر کر سکتی ہیں، جو پاکستان میں قابل تجدید توانائی کی ترقی کا اہم ستون ہے۔

یہ بھی پڑھیں: رانو ریچھ کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

نتیجہ: فیصلہ کب اور کیسے؟

نیپرا تمام جمع شدہ رائے اور تجاویز کا جائزہ لے گی، اور شمسی نیٹ میٹرنگ پر فکس چارجز کا فیصلہ آنے والے دنوں میں متوقع ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی شمسی توانائی کی ترقی کو روک سکتا ہے، جہاں لاکھوں خاندان مہنگے بجلی کے بلز سے بچنے کے لیے شمسی پینلز پر انحصار کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ قابل تجدید توانائی کی حوصلہ افزائی جاری رہے اور قومی گرڈ مستحکم ہو۔ عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ تازہ ترین اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں