واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے پیش نظر مزید 20 ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں جو یکم جنوری سے موثر ہوں گی۔ یہ پابندیاں مکمل اور جزوی دونوں صورتوں میں ہیں اور ان سے زیادہ تر افریقی ممالک کے علاوہ شام اور فلسطینی دستاویزات رکھنے والے افراد متاثر ہو رہے ہیں۔ اس اقدام سے پہلے جون میں 12 ممالک پر پابندیاں لگائی گئی تھیں، اب مجموعی طور پر متاثرہ ممالک کی تعداد تقریباً 39 ہو گئی ہے۔
مکمل پابندی والے ممالک
نئی پالیسی کے تحت شام، جنوبی سوڈان، نائجر، مالی اور برکینا فاسو کے شہریوں پر مکمل سفری پابندی لگائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ سفری دستاویزات رکھنے والے افراد بھی امریکہ کا سفر نہیں کر سکیں گے۔ یہ پابندیاں طلبہ، امریکی شہریوں کے خاندانی افراد اور افغان اسپیشل امیگرینٹ ویزہ ہولڈرز پر بھی लागو ہوں گی۔
جزوی پابندیاں اور متاثرہ ممالک
جزوی پابندیوں کی زد میں آنے والے 15 ممالک میں انگولا، انٹیگوا و باربوڈا، بنین، آئیوری کوسٹ، ڈومینیکا، گبون، گیمبیا، ملاوی، موریطانیہ، نائجیریا، سینیگال، تنزانیہ، ٹونگا، زیمبیا اور زمبابوے شامل ہیں۔ ان ممالک کے شہریوں کے لیے ویزہ حاصل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا اور سخت جانچ پڑتال کی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس کا موقف
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق یہ اقدامات امریکہ کو غیر محفوظ اور غیر مستحکم بنانے والے غیر ملکیوں کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی پہلی مدت میں بھی اسی طرح کی پابندیاں عائد کی گئی تھیں جو عدالتوں میں چیلنج ہوئیں، تاہم موجودہ انتظامیہ انہیں قومی سلامتی کی ضرورت قرار دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: Honor Play 60A خصوصیات کا ایک بنیادی سیٹ لاتا ہے لیکن اس کی قیمت بھی ایک معمولی رقم ہے۔
یہ نئی پابندیاں عالمی سطح پر تنقید کا باعث بن سکتی ہیں، خاص طور پر انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے، جو انہیں امتیازی سلوک قرار دے رہے ہیں۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ یہ اقدامات امریکی شہریوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔
