امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شکاگو، لاس اینجلس اور پورٹ لینڈ سے نیشنل گارڈ کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان شہروں میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی سے جرائم میں نمایاں کمی آئی، لیکن اگر جرائم دوبارہ بڑھے تو وفاقی فورسز مضبوط انداز میں واپس آئیں گی۔ کیلیفورنیا کے گورنر نے اسے خوش آئند قرار دیا اور ٹرمپ پر اختیارات سے تجاوز کا الزام عائد کیا۔ یہ فیصلہ گزشتہ سال جون میں کی گئی تعیناتی کے بعد قانونی چیلنجز کے نتیجے میں سامنے آیا۔
ٹرمپ کا بیان اور وجوہات
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ نیشنل گارڈ کی موجودگی سے ان شہروں میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا تو وفاقی مداخلت دوبارہ ہوگی، جو پہلے سے زیادہ سخت ہو سکتی ہے۔ یہ اعلان امریکی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کے بعد سامنے آیا، جن میں ٹرمپ کی پالیسیوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام جرائم کی روک تھام میں کامیاب رہا، تاہم ناقدین اسے سیاسی دباؤ کا حربہ قرار دیتے ہیں۔
کیلیفورنیا گورنر کا ردعمل
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے ٹرمپ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ریاست میں وفاقی فورسز کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ وہ اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے تھے اور یہ تعیناتی قانونی طور پر غلط تھی۔ گورنر کا کہنا ہے کہ ریاستوں کو اپنے امن و امان کے معاملات خود سنبھالنے کا حق ہے، اور وفاقی مداخلت جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ تنازع امریکی ریاستوں اور وفاق کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر بحث کو مزید تیز کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں نئے سال پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
پس منظر اور قانونی چیلنجز
یاد رہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ سال جون میں ان شہروں میں نیشنل گارڈ تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا، جو جرائم اور امیگریشن کنٹرول کے نام پر کیا گیا۔ تاہم یہ اقدام متعدد قانونی چیلنجز کا شکار رہا، جن میں سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی اپیل مسترد کر دی۔ ڈیموکریٹک رہنماؤں نے اسے سیاسی انتقام قرار دیا، جبکہ ریپبلکنز نے جرائم کی روک تھام کے لیے ضروری قرار دیا۔ اب یہ واپسی امریکی سیاست میں ایک نئی بحث کا آغاز کر سکتی ہے۔
نتیجہ
ٹرمپ کا یہ فیصلہ امریکی شہروں میں جرائم کی روک تھام کی بحث کو نئی جہت دے سکتا ہے۔ اگرچہ واپسی کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن مستقبل میں وفاقی مداخلت کی دھمکی باقی ہے۔ یہ صورتحال ریاستوں اور وفاق کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے، خاص طور پر الیکشن سال میں۔
