لندن: مشہور پاکستانی یوٹیوبِر رجب بٹ کو برطانوی حکام نے ملک بدر کر دیا ہے۔ وہ اپنے حالیہ قانونی مقدمات کو ویزا درخواست میں ظاہر نہ کرنے کی وجہ سے ویزا منسوخ ہونے کے بعد آج صبح پاکستان واپس روانہ ہو گئے۔ رجب بٹ، جو متنازع مواد اور بیٹنگ ایپس کی تشہیر جیسے الزامات کی وجہ سے پہلے ہی سرخیاں بٹور رہے تھے، برطانیہ میں مقیم تھے جہاں انہوں نے حال ہی میں بیٹے کی پیدائش کی خوشیاں بھی منائی تھیں۔
ملک بدری کی تفصیلات رجب بٹ کی ملک بدری برطانوی ہوم آفس کی سخت امیگریشن پالیسی کا نتیجہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق، انہوں نے ویزا کی تجدید کے لیے درخواست دی تھی مگر پاکستان میں درج متعدد مقدمات—جن میں توہینِ مذہب اور دیگر تنازعات شامل ہیں—کو چھپایا۔ برطانوی قوانین کے تحت، ایسے کیسز ویزا کی منسوخی کا باعث بنتے ہیں، اور رجب کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ وہ لندن ایئرپورٹ سے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی پرواز سے لاہور پہنچے۔ رجب بٹ نے سوشل میڈیا پر اسے "انتہائی تکلیف دہ لمحہ” قرار دیا، جہاں انہوں نے کہا کہ وہ برطانیہ کو اپنا دوسرا وطن سمجھتے تھے۔
پس منظر اور تنازعات رجب بٹ نے گزشتہ تین سالوں میں یوٹیوب پر 80 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز حاصل کیے، مگر ان کی متنازع ویڈیوز اور بیٹنگ ایپس کی تشہیر نے انہیں قانونی پھندوں میں جھنجھوڑ دیا۔ مارچ 2025 میں توہینِ مذہب کے الزامات پر انہوں نے پاکستان چھوڑا اور ابتدائی طور پر متحدہ عرب امارات، پھر برطانیہ منتقل ہو گئے۔ وہاں ان کی اہلیہ ایمان بٹ کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ تاہم، نجی ویڈیوز کی لیک ہونے اور دیگر الزامات نے ان کی مشکلات بڑھا دیں۔ برطانیہ میں بھی ان کی سرگرمیاں زیرِ نظر تھیں، جو ویزا کی منسوخی کا سبب بنیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں طوفانی بارش، تیز ہواؤں سے چھتیں گر گئیں، اسکول بند
نتیجہ رجب بٹ کی واپسی پاکستانی سوشل میڈیا کی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دے گی۔ یہ واقعہ ڈیجیٹل کریئٹرز کے لیے ویزا اور قانونی چیلنجز کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ رجب نے ویڈیو میں کہا کہ وہ جلد نئے مواد کے ساتھ واپس آئیں گے، مگر ان کی آئندہ حکمت عملی اب واضح نہیں۔ پاکستانی یوٹیوبِر کمیونٹی ان کی بحالی کی دعاگو ہے، جبکہ تنازعات کا سلسلہ ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
