برطانیہ کی حکومت نے موٹاپے سے نمٹنے کے لیے اہم اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ ملک شیک، پیکڈ ملک اور دیگر مشروبات میں چینی کی مقدار کو 100 ملی لیٹر میں 4.5 گرام تک محدود کر دیا گیا ہے، اور اس سے زائد پر شوگر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ یہ ٹیکس کیفے اور بازاروں میں دستیاب کھلے کپ والے مشروبات پر نہیں لگے گا۔ یہ اقدام یکم جنوری 2028 سے نافذ ہوگا، جس کا مقصد بچوں میں موٹاپے کو کم کرنا اور صحت کے مسائل سے بچانا ہے۔
حکومتی اقدامات حکومت نے شوگر ٹیکس کو وسعت دیتے ہوئے پیکڈ ملک شیک، لیٹے اور دیگر مشروبات کو اس کے دائرے میں شامل کیا ہے۔ پہلے یہ ٹیکس صرف سافٹ ڈرنکس پر تھا، لیکن اب چینی کی حد کو کم کر کے 4.5 گرام کر دیا گیا ہے۔ اس سے کمپنیوں کو اپنے پروڈکٹس میں چینی کم کرنے کی ترغیب ملے گی۔ موٹاپا پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک بڑا مسئلہ ہے، اور برطانیہ کا یہ قدم دیگر ممالک کے لیے مثال بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویسٹ یارکشائر پولیس کا منی لانڈرنگ کیخلاف آپریشن، 2.7 ملین پاؤنڈ کے غیرقانونی اثاثے ضبط
وزیر صحت کا بیان برطانوی وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موٹاپا بچوں کو زندگی کے بہترین آغاز سے محروم کر دیتا ہے اور غریب طبقے کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موٹے افراد صحت کے مسائل سے دوچار رہتے ہیں، جس پر حکومت کو اربوں پاؤنڈ خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ یہ ٹیکس صحت کے بجٹ کو بچانے میں مدد دے گا۔
ٹیکس کی تفصیلات اور استثنیٰ میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ ٹیکس صرف پیکڈ پروڈکٹس پر ہوگا، جبکہ کیفے میں تیار ہونے والے مشروبات مستثنیٰ رہیں گے۔ اس سے صارفین کو صحت مند انتخاب کرنے کی ترغیب ملے گی۔ موٹاپے سے نمٹنے کے لیے یہ ایک اہم قدم ہے، جو چینی کی زیادتی کو کم کرے گا۔
نتیجہ برطانیہ کا یہ شوگر ٹیکس موٹاپے کے خلاف جنگ میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف بچوں کی صحت بہتر ہوگی بلکہ صحت کے نظام پر بوجھ بھی کم ہوگا۔ پاکستان جیسے ممالک بھی اس سے سبق سیکھ کر اپنے شہریوں کی صحت کی حفاظت کر سکتے ہیں۔
