واشنگٹن: امریکا کا محکمہ وطن دوستانہ تحفظ (ڈی ایچ ایس) نے سابق صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں ملک میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کے سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے کے الزامات لگا کر ان کی تصاویر اور تفصیلات عوامی طور پر جاری کر دی ہیں۔ محکمے کا کہنا ہے کہ یہ افراد دہشت گردی، جنسی استحقاق اور پولیس افسران پر فائرنگ جیسے جرائم میں ملوث پائے گئے، جبکہ عوامی سلامتی کو خطرات سے بچانے کے لیے انہیں فوری طور پر ملک بدر کرنے کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔
جرائم کی تفصیلات اور ملزمان
ڈی ایچ ایس کے بیان کے مطابق، جو بائیڈن انتظامیہ کے تحت 2021 میں کابل کے فتح ہونے کے بعد شروع ہونے والے ‘آپریشن الیز ویل کام’ پروگرام کے ذریعے امریکہ داخل ہونے والے متعدد افغان شہریوں نے سنگین جرائم کیے۔ ان میں جمال ولی اور محمد خروین شامل ہیں جنہیں ابتدائی طور پر رہا کر دیا گیا تھا مگر بعد میں وہ پرتشدد جرائم میں ملوث پائے گئے۔ اسی طرح عبداللہ حاجی زادہ، ناصر احمد توحیدی، جاوید احمدی، بحر اللہ نوری اور ذبیح اللہ مہمند سمیت دیگر ملزمان پر کم عمر بچوں پر حملے، جنسی جرائم کی منصوبہ بندی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے الزامات ہیں۔ محکمہ نے واضح کیا کہ یہ کیسز ابھی زیرِ سماعت ہیں یا ان پر سزائیں سنائی جا چکی ہیں، اور یہ اعلان بائیڈن دور کی ویٹنگ پروسیس پر شکوک و شبہات کو اجاگر کرنے کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں مویشیوں کی چوری کے الزام میں 13پاکستانی گرفتار
وجوہات اور امریکی پالیسی
یہ اعلان حالیہ واقعات سے جڑا ہے، جیسے نیشنل گارڈ کے دو ارکان پر فائرنگ کا واقعہ جس کا ملزم بھی افغان نژاد تھا، جس کے نتیجے میں ٹرمپ انتظامیہ نے افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستوں پر روک لگا دی۔ ڈی ایچ ایس کا موقف ہے کہ بائیڈن دور کی ویٹنگ میں خامیاں تھیں، جس کی وجہ سے 76 ہزار سے زائد افغانوں میں سے کچھ خطرناک عناصر شامل ہو گئے۔ تاہم، امیگریشن حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ چند افراد کے اعمال کو پوری کمیونٹی پر تعمیم نہ دی جائے، کیونکہ بیشتر افغان مترجمین اور امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے لوگ طالبان کے خطرے سے بچنے کے لیے آئے تھے۔
افغان مہاجرین کی صورتحال
افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد سے لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان، ایران اور دیگر ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں انہیں جبری واپسی کا سامنا ہے۔ امریکہ کا یہ اقدام عالمی سطح پر افغان مہاجرین کی مشکلات کو مزید اجاگر کر رہا ہے، جہاں ایران اور پاکستان میں بھی انہیں سیکورٹی خطرہ قرار دے کر ملک بدر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پالیسی تبدیل ہو سکتی ہے مگر فی الحال یہ عوامی سلامتی کی ترجیح ہے۔
نتیجہ
امریکا کا یہ قدم نہ صرف اندرونی سلامتی کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے بلکہ سابقہ انتظامیہ کی پالیسیوں پر تنقید بھی۔ افغان کمیونٹی کے لیے یہ ایک دھچکا ہے، مگر یہ یاد دلاتا ہے کہ مہاجرین کی ویٹنگ میں شفافیت کی ضرورت ہے۔ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے ممالک کو بھی اس سے سبق سیکھنا چاہیے تاکہ مہاجرین کی مدد اور سلامتی کا توازن برقرار رہے۔
