کراچی میں ٹریفک قوانین کی سخت پابندی کو یقینی بنانے کے لیے ای چالان نظام کے آغاز کے بعد شہر کی اہم ترین شاہراہ شارع فیصل پر حد رفتار کے سائن بورڈ لگا دیے گئے ہیں۔ کاروں، جیپوں اور ہلکی گاڑیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی حد مقرر کی گئی ہے، جبکہ بھاری گاڑیوں جیسے بسوں اور ٹرکوں کے لیے یہ حد 30 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھی گئی ہے۔ ڈی ایس پی ایڈمن کاشف ندیم کے مطابق، خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کو نگرانی کیمروں کے ذریعے خودکار طور پر چالان جاری کیے جائیں گے، جو ٹریفک حادثات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
ٹریفک پولیس کی جانب سے نئی ہدایات
ڈی ایس پی کاشف ندیم نے بتایا کہ یہ اقدام شہر بھر میں ٹریفک کے بہتر انتظام کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ شارع فیصل، جو کراچی کی سب سے لمبی اور اہم سڑک ہے، پر روزانہ ہزاروں گاڑیاں گزرتی ہیں، اور تیز رفتاری کی وجہ سے حادثات میں اضافہ دیکھا جا رہا تھا۔ اب ان سائن بورڈز کی مدد سے ڈرائیورز کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ مقررہ حد سے زیادہ رفتار نہ اختیار کریں۔ اس نظام سے نہ صرف حادثات کم ہوں گے بلکہ ٹریفک کا بہاؤ بھی ہموار ہوگا۔ کراچی ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ ای چالان کا آغاز 27 اکتوبر 2025 سے ہوا ہے، اور اب تک ہزاروں چالان جاری کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس نے27 ویں آئینی ترمیم پر غور کیلئے فل کورٹ اجلاس آج طلب کرلیا
ای چالان نظام کے فوائد اور چیلنجز
ای چالان نظام سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر فوری کارروائی ممکن ہوئی ہے، جو انسانی مداخلت کے بغیر کام کرتا ہے۔ تاہم، کچھ ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ حد رفتار بہت کم ہے، خاص طور پر شارع فیصل جیسی وسیع شاہراہ پر۔ ٹریفک پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ حدود حادثات کی روک تھام کے لیے ضروری ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی رفتار چیک کریں اور چالان سے بچنے کے لیے قوانین کی پابندی کریں۔
نتیجہ
یہ نئے قوانین کراچی میں ٹریفک کی حفاظت کو بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔ شہریوں کی جانب سے قوانین کی پابندی سے نہ صرف حادثات کم ہوں گے بلکہ شہر کا ٹریفک سسٹم بھی بہتر ہوگا۔ ٹریفک پولیس مزید سڑکوں پر ایسے اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو پاکستان بھر میں روڈ سیفٹی کو فروغ دیں گے۔
