ہفتہ, جون 13, 2026
Homeپاکستانچیف جسٹس نے27 ویں آئینی ترمیم پر غور کیلئے فل کورٹ اجلاس...

چیف جسٹس نے27 ویں آئینی ترمیم پر غور کیلئے فل کورٹ اجلاس آج طلب کرلیا

پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے آج جمعہ کی نماز کے بعد دو بجے فل کورٹ اجلاس طلب کر لیا ہے، جس کا مرکزی موضوع 27ویں آئینی ترمیم کے عدلیہ پر اثرات اور اس کی شقوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ تین سینیئر ججز جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس صلاح الدین پنہور کی خطوط پر ردعمل میں یہ مشاورت ہوگی، جہاں اختیارات کے توازن اور عدالتی آزادی کو ممکنہ خطرات سے نمٹنے پر غور کیا جائے گا۔ اسی دوران چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کے اعزاز میں عشائیہ بھی کریں گے، جو 20 نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔

اس اجلاس کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی ہے جب 27ویں ترمیم صدر کے دستخط کے بعد نافذ العمل ہو چکی ہے، جو عدلیہ کی تشکیل اور اختیارات میں تبدیلیاں لاتی ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ مشاورت لا اینڈ جسٹس کمیشن اور عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کو بھی شامل کرے گی، تاکہ ترمیم کی ہر شق کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے۔

ججوں کی خطوط اور عدالتی خدشات جسٹس صلاح الدین پنہور کے خط میں واضح طور پر کہا گیا کہ یہ ترمیم عدالتی اختیارات کے توازن کو برباد کر سکتی ہے، جبکہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اسے عدلیہ کی آزادی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ ان خطوط نے سپریم کورٹ کے اندر بحث چھیڑ دی ہے، اور فل کورٹ اسے شق بہ شق پرکھے گا۔ یہ اقدام پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں عدلیہ اپنے مستقبل کی حفاظت کے لیے متحد ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں 2 بچے شہید کردیے، غزہ میں اجتماعی قبر سے لاشیں برآمد

اجلاس کا ممکنہ ایجنڈا اور ریٹائرمنٹ کی تیاریاں فل کورٹ کا فوکس نہ صرف ترمیم کے اثرات پر ہوگا بلکہ عدالتی پالیسیوں کی نظر ثانی پر بھی۔ اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس کا عشائیہ جسٹس امین الدین خان کے ریٹائرمنٹ کی خوشی اور اداسی کو ملا دیتا ہے، جو ان کی خدمات کا اعتراف ہوگا۔ یہ تقریب عدلیہ کی اندرونی ہم آہنگی کو بھی ظاہر کرے گی۔

نتیجہ: عدلیہ کی آزادی کا امتحان یہ فل کورٹ اجلاس پاکستان کی عدلیہ کے لیے ایک سنگ میل ہے، جو 27ویں آئینی ترمیم کے چیلنجز کا سامنا کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ اگر مشاورت سے کوئی متفقہ موقف نکلا تو یہ آئینی توازن بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستانی عوام کی نظریں سپریم کورٹ پر جمی ہیں، جو انصاف کی ضمانت ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں