پاکستان بھر میں قومی اسمبلی کے 6 اور پنجاب اسمبلی کے 7 حلقوں میں ضمنی انتخابات آج منعقد ہو رہے ہیں۔ ہری پور، لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، ڈیرہ غازی خان، سرگودھا، میانوالی اور مظفر گڑھ جیسے علاقوں میں تیاریاں مکمل ہیں، جہاں صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک ووٹنگ ہوگی۔ 2792 پولنگ اسٹیشنز میں سے 408 کو انتہائی حساس اور 1032 کو حساس قرار دیا گیا ہے، جبکہ 20 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ یہ انتخابات پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے رہنماؤں کی 9 مئی کیسز میں نااہلی کی وجہ سے خالی ہونے والی نشستوں پر ہو رہے ہیں۔
اہم حلقوں میں مقابلہ
این اے 18 ہری پور میں 9 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ شہرناز، ن لیگ کے بابر نواز خان اور پیپلز پارٹی کی ارم فاطمہ کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ یہ نشست عمر ایوب کی نااہلی پر خالی ہوئی تھی۔ اسی طرح این اے 96 فیصل آباد میں ن لیگ کے طلال بدر چوہدری کا 15 آزاد امیدواروں سے ٹکراؤ ہے، جو رائے حیدر علی کھرل کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہوئی۔ این اے 104 فیصل آباد میں راجہ دانیال اور 4 آزاد امیدوار مدمقابل ہیں، جو حامد رضا کی سزا کی وجہ سے خالی ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے معروف گلوکار ٹریفک حادثے میں جاں بحق
این اے 185 ڈیرہ غازی خان میں محمود قادر لغاری اور سردار دوست محمد کھوسہ سمیت 8 امیدواروں کا مقابلہ ہے، جو زرتاج گل کی نااہلی پر خالی ہوئی۔ پنجاب اسمبلی کے حلقوں میں بھی مشابه مقابلے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
سکیورٹی اور انتظامات
الیکشن کمیشن نے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور انتخابی سامان پولنگ اسٹیشنز تک پہنچا دیا گیا ہے۔ حساس علاقوں میں اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں تاکہ پرامن انتخابات یقینی بنائے جا سکیں۔ وزارت داخلہ نے سول آرمڈ فورسز اور پاک فوج کو کوئیک ری ایکشن فورس کے طور پر تیار رکھا ہے۔
نتیجہ
یہ ضمنی انتخابات پاکستان کی جمہوریت کے لیے اہم ہیں اور نتائج سے سیاسی منظر نامہ پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔ شہریوں سے اپیل ہے کہ پرامن طریقے سے ووٹ ڈالیں اور جمہوری عمل میں حصہ لیں۔ نتائج کا اعلان شام کے بعد متوقع ہے۔
