رحیم یار خان کے علاقے ماہی چوک میں کسانوں نے گنے کے نرخوں میں اضافہ نہ ہونے پر اپنی فصل کو آگ لگا دی۔ یہ احتجاج ڈیزل اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے پیداواری اخراجات پورے نہ ہونے پر کیا گیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ چینی کی قیمت 200 روپے فی کلو سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ انہیں گنے کا ریٹ ٹوکری برابر مل رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گنے کی فی من قیمت کم از کم 600 روپے کی جائے تاکہ ان کی محنت کا معاوضہ مل سکے۔
احتجاج کی وجوہات
پاکستان کے زرعی علاقوں میں کسانوں کو درپیش مسائل دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں۔ رحیم یار خان جیسے علاقوں میں گنے کی کاشت اہم ذریعہ معاش ہے، لیکن ڈیزل، کھاد اور دیگر زرعی اشیاء کی مہنگائی نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت بڑھنے سے ان کی فصل فروخت کرنے پر بھی نقصان ہو رہا ہے۔ شوگر مافیا کی جانب سے کم ریٹ دینے کی وجہ سے کسان شدید پریشان ہیں اور یہ احتجاج اسی مایوسی کا نتیجہ ہے۔ پنجاب میں گندم کے بعد گنے کی فصل بھی اسی صورتحال سے دوچار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کے 6 اور پنجاب اسمبلی کے 7 حلقوں میں ضمنی انتخابات آج ہوں گے
ویڈیو وائرل اور عوامی ردعمل
اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے، جس میں کسان اپنی فصل کو آگ لگاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ ویڈیو کسانوں کی حالت زار کی عکاسی کرتی ہے اور عوام میں زرعی مسائل پر بحث چھیڑ گئی ہے۔
مطالبات اور ممکنہ اثرات
کسانوں نے حکومت سے فوری طور پر گنے کی قیمت بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر یہ مطالبات پورے نہ ہوئے تو زرعی شعبے پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں، جیسے فصل کی تباہی اور غذائی بحران۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شوگر ملز اور کسانوں کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔
نتیجہ
یہ واقعہ پاکستان کے زرعی بحران کی ایک جھلک ہے۔ حکومت کو کسانوں کی آواز سننی چاہیے اور مناسب پالیسیاں وضع کرنی چاہییں تاکہ کسانوں کی محنت ضائع نہ ہو۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے احتجاج بڑھ سکتے ہیں، جو ملک کی معیشت کو متاثر کریں گے۔
