برطانیہ کی متعدد یونیورسٹیوں نے پاکستانی اور بنگلادیشی طلبہ کے لیے داخلے کا عمل معطل یا محدود کر دیا ہے، جس سے ہزاروں مستحق طلبہ کی تعلیم کے خوابوں کو دھچکا لگ گیا ہے۔ ہوم آفس کی نئی سخت ویزا پالیسیوں اور سیاسی پناہ کی بڑھتی درخواستیں اس کی بنیادی وجہ ہیں، جبکہ ویزا مسترد ہونے کی شرح 18 سے 22 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ کم از کم نو یونیورسٹیوں نے یہ قدم اٹھایا ہے، جس میں یونیورسٹی آف چیسٹر، یولورہیمپٹن اور ایسٹ لندن جیسی مشہور ادارے شامل ہیں۔
یونیورسٹیوں کی پابندیوں کا منظر نامہ
برطانوی یونیورسٹیوں نے پاکستانی اور بنگلادیشی طلبہ کو ‘ہائی رسک’ ملکوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے، جس کے تحت داخلے روک دیے گئے ہیں۔ یونیورسٹی آف چیسٹر نے پاکستان سے داخلے خزاں 2026 تک معطل کر دیے، جبکہ یونیورسٹی آف وولورہیمپٹن نے انڈر گریجویٹ پروگرامز کے لیے دونوں ممالک کے طلبہ کی درخواستیں قبول کرنا بند کر دیں۔ یونیورسٹی آف ایسٹ لندن، سنڈرلینڈ اور کونٹری یونیورسٹی نے بھی اسی طرح کے اقدامات اٹھائے ہیں۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، یہ پابندیاں ہوم آفس کی نئی ضابطوں کا نتیجہ ہیں، جن میں ویزا مسترد ہونے کی شرح پانچ فیصد سے زیادہ نہ ہونے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ گزشتہ سال ستمبر تک 23 ہزار سے زائد ویزوں کی تردید ہوئی، جن میں سے نصف پاکستان اور بنگلادیش سے متعلق تھیں۔
سیاسی پناہ کی بڑھتی رجحا نات اور حکومتی ردعمل
پاکستانی طلبہ کی جانب سے سٹوڈنٹ ویزے پر داخلے کے بعد سیاسی پناہ کی درخواستیں بڑھنے کو اس بحران کی جڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال پاکستان اسائلم کی درخواستیں دینے والے ممالک میں سرفہرست رہا، جہاں بہت سے طلبہ تعلیمی ویزے کو مستقل قیام کا ‘بیک ڈور’ بنا رہے ہیں۔ بارڈر سیکیورٹی کی وزیر ڈیم اینجیلا ایگل نے واضح کیا کہ ویزا سسٹم کو برطانیہ میں قیام کے لیے غلط استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ دیگر یونیورسٹیوں جیسے ہرٹفورڈشائر نے بھی داخلے ستمبر 2026 تک روک دیے، کیونکہ ویزا پروسیسنگ میں تاخیر اور ریفیوزل کی شرح ان کی سپانسر لائسنس کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
پاکستانی طلبہ پر اثرات اور متبادل راستے
یہ پابندیاں پاکستانی طلبہ کے لیے شدید مسائل پیدا کر رہی ہیں، خاص طور پر متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے جن کی بچت برطانوی تعلیم پر منحصر تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اصل طلبہ کو سزا دے رہا ہے، جبکہ ویزا فراڈ کو روکنے کی بجائے وسیع تر اثرات مرتب کر رہا ہے۔ پاکستان میں تعلیمی مشاورین تجویز کر رہے ہیں کہ طلبہ کینیڈا، آسٹریلیا یا جرمنی جیسے متبادل ملکوں پر غور کریں، جہاں ویزا پالیسیاں نسبتاً لچکدار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ٹریفک پولیس نے شہر بھر میں بڑی کارروائی کا آغاز کر دیا
نتیجہ: یہ صورتحال پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلیمی روابط کو کمزور کر سکتی ہے، جبکہ ہزاروں طلبہ کی مستقبل کی منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ برطانیہ سے سفارتی سطح پر بات چیت کرے تاکہ مستحق طلبہ کے لیے خصوصی چھوٹ حاصل کی جائے۔ اسی دوران، طلبہ کو اپنی تیاری جاری رکھنی چاہیے اور متبادل اختیارات تلاش کرنے چاہییں۔
