بھارتی ریاست بہار کے شہر بودھ گیا میں ایک شادی کی تقریب اس وقت خونریز جھگڑے میں تبدیل ہو گئی جب رسگلے ختم ہونے پر دلہا اور دلہن دونوں خاندانوں کے افراد نے ایک دوسرے پر گھونسوں، تھپڑوں اور کرسیوں سے حملے شروع کر دیے۔ واقعے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی۔
جھگڑے کی ابتدا اور شدت
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شادی کی تمام رسومات بخیریت مکمل ہو چکی تھیں اور کھانے کی تقریب جاری تھی۔ دلہن کے خاندان نے شکایت کی کہ رسگلے بہت جلد ختم ہو گئے اور مہمانوں کو مناسب مقدار نہیں مل سکی۔ بات چیت سے شروع ہونے والا تنازعہ چند منٹوں میں ہاتھا پائی پر منتج ہو گیا۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مرد و خواتین دونوں کرسیاں اٹھا اٹھا کر ایک دوسرے پر پھینک رہے ہیں جبکہ کئی افراد زمین پر گر کر لڑ رہے ہیں۔
جہیز تنازعہ بھی سامنے آیا
دلہن کے والد کا دعویٰ ہے کہ دلہے کے خاندان نے جہیز میں اضافی دو لاکھ روپے مانگے تھے جو مسترد کر دیے گئے۔ ان کے مطابق رسگلے کا بہانہ بنا کر جان بوجھ کر ہنگامہ کھڑا کیا گیا تاکم شادی کو خراب کیا جا سکے۔ دوسری جانب دلہے کے لواحقین نے الزام عائد کیا کہ دلہن والوں نے جان بوجھ کر کھانے میں کمی رکھی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو کنٹرول کیا اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی یونیورسٹیوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے طلبہ کے داخلے عارضی طور پر روک دیے
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز
واقعے کی متعدد ویڈیوز ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ایک وائرل کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح خوبصورت سجی شادی کی تقریب چند لمحوں میں تباہی کا منظر بن گئی۔
نتیجہ
یہ واقعہ ایک بار پھر بھارتی معاشرے میں جہیز کے لعنت اور چھوٹی باتوں پر تشدد کے رجحان کو اجاگر کرتا ہے۔ مقامی پولیس نے دونوں فریقوں سے شکایات درج کر لی ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔
