اسلام آباد – بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (بی ای او ای) نے ایک بار پھر پاکستانی عوام کو جعلی ویزا اور نوکری کے ایجنٹوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجی ٹریول ایجنٹوں پر بھروسہ نہ کریں جو بیرون ملک نوکری اور ویزا دلوانے کے جھوٹے دعوے کرتے ہیں۔ بیورو کے مطابق یہ ایجنٹ بیرون ملک روزگار کے لیے بھرتی کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں رکھتے اور نہ ہی انہیں ویزا یا نوکری کے بدلے پیسے لینے کی اجازت ہے۔
صرف لائسنس یافتہ پرموٹرز پر بھروسہ کریں
بیورو نے واضح کیا کہ پاکستان سے بیرون ملک مزدور بھیجنے کا اختیار صرف رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پرموٹرز کو ہے۔ ان کی فہرست بی ای او ای کی ویب سائٹ پر آن لائن موجود ہے جہاں کوئی بھی شخص آسانی سے تصدیق کر سکتا ہے۔ نجی ٹریول ایجنٹوں یا غیر رجسٹرڈ افراد سے رابطہ کر کے پیسے ضائع کرنے سے گریز کریں۔
آزاد ویزہ کا جھوٹ اور سنگین نتائج
بیورو نے “آزاد ویزا” کے بارے میں بڑھتی ہوئی غلط فہمی دور کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا کا کوئی ملک ایسا ویزا جاری نہیں کرتا جس پر ملازم آزادانہ طور پر کہیں بھی کام کر سکے۔ ہر جائز ورک ویزا ایک مخصوص آجر یا سپانسر سے منسلک ہوتا ہے۔ بغیر اجازت آجر تبدیل کرنے پر بھاری جرمانہ، ملک بدر یا قانونی تحفظ ختم ہو سکتا ہے۔ حادثے کی صورت میں صرف سپانسر آجر ہی معاوضہ ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں چین سے درآمد شدہ 17 نئی بسیں پہنچ گئیں، خواتین کے لیے 4 پنک بسیں بھی شامل
آخری پیغام
بیورو نے تمام نوکری کے متلاش افراد سے گزارش کی ہے کہ کسی بھی پرموٹر یا ایجنٹ سے رابطہ کرنے سے پہلے beoe.gov.pk پر تصدیق ضرور کر لیں۔ جعلی وعدوں پر لاکھوں روپے ضائع کرنے اور بیرون ملک قانونی پریشانی میں مبتلا ہونے سے بہتر ہے کہ ایک منٹ ویب سائٹ چیک کر لیں۔ اپنے اور اپنے خاندان کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔
