اسلام آباد – قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اسمارٹ فونز پر عائد بھاری ٹیکسوں میں کمی کا سخت مطالبہ کر دیا۔ چیئرمین سید نوید قمر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں ارکان نے موقف اختیار کیا کہ اب موبائل فون کوئی عیاشی کی چیز نہیں بلکہ روزمرہ کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے، لہٰذا اس پر لگژری ٹیکس کا جواز ختم ہو چکا ہے۔
اجلاس میں اہم نکات چیئرمین سید نوید قمر نے کہا کہ ایف بی آر گاڑیوں کے بعد موبائل فونز پر بھی بے تحاشہ ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ “اب یہ بہانہ نہیں چل سکتا کہ ہم آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں”۔ رکن اسمبلی علی قاسم گیلانی نے موبائل فونز کی مارکیٹ ویلیو ایشن کو غیر حقیقی قرار دیا۔
ایف بی آر حکام نے جواب دیا کہ مہنگے فون صرف امیر لوگ خریدتے ہیں اور ٹیکس فون کی قیمت پر لگتا ہے، ماڈل پر نہیں۔ تاہم چیئرمین پی ٹی اے نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں درآمد ہونے والے موبائل فونز میں صرف 6 فیصد ہی مہنگے ہیں، باقی 94 فیصد عام اور سستے فونز ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس نے اڈیالہ جیل کے قریب عمران خان کی بہنوں اور اورکارکنوں کا دھرنا ختم کرا دیا
متوقع اثرات ارکان کا اتفاق تھا کہ ٹیکسوں میں کمی سے نہ صرف عام شہری کو ریلیف ملے گا بلکہ اسمارٹ فونز کی دستیابی بڑھے گی اور ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کو فروغ ملے گا۔ کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ فوری طور پر ٹیکس ساختار کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی جائے۔
