ہفتہ, مئی 30, 2026
Homeپاکستاناڈیالہ کے باہر مستقل احتجاج پر عمران خان کی جیل منتقلی پر...

اڈیالہ کے باہر مستقل احتجاج پر عمران خان کی جیل منتقلی پر غور کیا جا سکتا ہے، رانا ثنااللہ

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے اندرونی امور رانا ثنا اللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اڈیالہ جیل کے باہر ہفتہ وار احتجاج کو مستقل معمول بنا دے تو حکومت سابق وزیراعظم عمران خان کی کسی دوسری جیل میں منتقلی پر سنجیدگی سے غور کر سکتی ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام ‘جیو پاکستان’ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پی ٹی آئی کی ادارہ جاتی تنقید اور ماضی کی ناکام بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے والے اقدامات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

پی ٹی آئی کی تنقید اور مذاکرات میں رکاوٹیں

رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی بطور جماعت اور عمران خان نے اداروں پر براہ راست تنقید کی ہے، جو عوام کو پسند نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جیسے دشمن ملک کے پروپیگنڈے میں عمران خان کا ساتھ دینا بھی قابل مذمت ہے۔ ماضی میں پی ٹی آئی سے بات چیت کی کوششیں کی گئیں مگر عمران خان کے بیانات کی وجہ سے ڈیڈ لاک پیدا ہوا۔ ‘اگر ہر منگل اور جمعرات کو اڈیالہ کے قریب احتجاج کا سلسلہ جاری رہا تو جیل منتقلی کا آپشن کھلا ہے،’ ان کا کہنا تھا۔

9 مئی کے واقعات پر معافی کی شرائط

مشیر نے زور دیا کہ پی ٹی آئی کو 9 مئی کے واقعات اور اپنے متنازع بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کر کے معافی مانگنی چاہیے، تب شاید کوئی راہ کھلے۔ ‘اگر عمران خان اپنے موقف پر قائم رہے تو ڈیڈ لاک برقرار رہے گا،’ انہوں نے کہا۔ دوسری جانب، انہوں نے پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی سوچ کو سراہا، جو ہمیشہ افہام و تفہیم پر زور دیتی رہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی سیاسی جماعتوں کو آپس میں بات چیت کی دعوت دی ہے، جسے حکومت کی حمایت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ کا اسمارٹ فونز پر عائد ٹیکس میں کمی کا مطالبہ

سیاسی استحکام کی راہ میں امید

رانا ثنا اللہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت امن و امان کو یقینی بناتے ہوئے سیاسی ڈائلاگ کی حامی ہے، بشرطیکہ جماعتیں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ تمام فریقین کو چاہیے کہ اداروں کا احترام کریں اور قومی مفاد میں مل جل کر چلیں۔ اگر پی ٹی آئی معافی اور اصلاح کی طرف بڑھے تو سیاسی منظرنامہ بدل سکتا ہے، ورنہ کشیدگی مزید گہری ہو گی۔ یہ صورتحال پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اہم موڑ ہے، جہاں استحکام ہی واحد راستہ ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں