لاہور: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئر پرسن سینیٹر روبینہ خالد نے لاہور میں پروگرام کے مرکزی زونل آفس کا دورہ کیا اور پریس کانفرنس میں سوشل پروٹیکشن والیٹ کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس کے ذریعے ملک بھر کی ایک کروڑ مستحق خواتین کو براہ راست ڈیجیٹل ادائیگیاں کی جائیں گی۔ مفت سم کی تقسیم کا پچاس فیصد عمل مکمل ہوچکا ہے، جو خواتین کی معاشی اور ڈیجیٹل شمولیت کو بڑھاوا دے گا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے جو خواتین کو سماجی تحفظ فراہم کررہا ہے۔
پریس کانفرنس کی تفصیلات
روبینہ خالد نے کہا کہ صدر اور وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر یہ والیٹ لانچ کیا گیا ہے تاکہ ادائیگیوں میں شفافیت اور آسانی پیدا ہو۔ مستحق خواتین کو اب بار بار دفاتر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ ان کے ڈیجیٹل والیٹ میں براہ راست رقم منتقل ہوجائے گی۔ مفت سم صرف بی آئی ایس پی مراکز سے فراہم کی جارہی ہیں اور ان کی ایکٹیویشن بھی عملہ خود کرے گا۔ انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ ان سم کو اپنے پرس کی طرح محفوظ رکھیں کیونکہ مستقبل کی تمام ادائیگیاں اسی ذریعے ہوں گی۔
اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ بے نظیر ہنر مند پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے تاکہ بے روزگاری کا مقابلہ کیا جاسکے اور لوگوں کو ہنر سکھا کر خودمختار بنایا جائے۔
بے نظیر بھٹو کی یوم شہادت
کل شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی ہے۔ روبینہ خالد نے کہا کہ بی بی شہید ہمت، برداشت اور جدوجہد کی علامت ہیں۔ خواتین ان کی میراث سے طاقت اور اعتماد حاصل کرتی ہیں۔ ان کی خواتین حقوق اور پاکستان کیلئے خدمات ناقابل فراموش ہیں، جو عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہیں۔ "ہنر آپ کا اثاثہ ہے” ان کی بات کو یاد کرتے ہوئے پروگرام کو مزید فعال بنایا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایم ٹی اے نے ای ٹرانزٹ ایپ اور ٹی کیش کارڈ کے بارے میں الجھن دور کر دی
روبینہ خالد نے بعدازاں لاہور کے مختلف مراکز کا دورہ کیا اور عملے کو ہدایات دیں کہ خواتین کو مکمل رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ انہیں کوئی دشواری نہ ہو۔
نتیجہ
یہ اقدامات خواتین کی معاشی خودمختاری اور ڈیجیٹل شمولیت کو تقویت دیں گے، جو پاکستان کی ترقی کیلئے اہم ہیں۔ بی آئی ایس پی جیسے پروگرام غربت کے خاتمے اور صنفی مساوات کو فروغ دے رہے ہیں۔
