لاہور – پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (پی ایم ٹی اے) نے عوام میں پائے جانے والے ابہام کو دور کرنے کے لیے ای ٹرانزٹ ایپ کے ای والٹ اور ٹی کیش کارڈ کے استعمال کے حوالے سے سرکاری وضاحت جاری کر دی ہے۔ دونوں ادائیگی کے نظام الگ الگ ہیں اور ایک دوسرے سے منسلک نہیں، جبکہ ای والٹ کا بیلنس صرف مسافرت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
دونوں نظاموں کی الگ حیثیت
پی ایم ٹی اے کے مطابق، ای ٹرانزٹ ایپ کا ای والٹ اور ٹی کیش کارڈ دو مکمل طور پر الگ ادائیگی کے ذرائع ہیں۔ پبلک سروس آئی ڈی (پی ایس آئی ڈی) کے ذریعے کی جانے والی ادائیگیاں صرف ای والٹ میں ظاہر ہوتی ہیں اور ٹی کیش کارڈ کے بیلنس پر کوئی اثر نہیں ڈالتیں۔ مسافروں کو یہ الجھن دور کرنے کے لیے اتھارٹی نے یہ وضاحت ضروری سمجھی تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
ٹی کیش کارڈ، جو بینک آف پنجاب کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے، ایک الگ اکاؤنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے صارفین اے ٹی ایم سے نقد رقم نکال سکتے ہیں یا ماسٹر کارڈ کے ذریعے خریداری کر سکتے ہیں۔
ای والٹ کی خصوصیات اور حفاظت
دوسری طرف، ای ٹرانزٹ ایپ کا ای والٹ صرف ماس ٹرانزٹ سروسز جیسے میٹرو بس، سپیڈو بس اور اورنج لائن ٹرین کی مسافرت کے لیے مختص ہے۔ پی ایم ٹی اے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ای والٹ میں جمع کیے گئے فنڈز مکمل محفوظ ہیں۔ تاہم، ای والٹ اور ٹی کیش کارڈ کے درمیان بیلنس کی منتقلی ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں بھاری گاڑیوں پر عارضی پابندی کا اعلان
مسافروں کی سہولت اولین ترجیح
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ وضاحت مسافروں کی سہولت اور شفافیت کو بڑھانے کے لیے جاری کی گئی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ ادائیگی کے اختیارات کے بارے میں درست معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔ اس اقدام سے پنجاب میں عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام مزید آسان اور قابل اعتماد بننے کی توقع ہے۔
