نیویارک: امریکا کی شمال مشرقی ریاستوں میں شدید برفانی طوفان نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں پروازیں منسوخ ہوگئیں، سڑکیں برف سے ڈھک گئیں اور متعدد علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔ نیویارک سٹی کے سینٹرل پارک میں 4.3 انچ برف ریکارڈ کی گئی جو تقریباً چار سال کی سب سے زیادہ ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں برف کی تہہ 6 سے 10 انچ تک پہنچ گئی۔
برفباری کے اثرات اور پروازوں کی منسوخی
طوفان کی وجہ سے حد نگاہ کم ہوگئی اور ہوائی اڈوں پر افراتفری پھیل گئی۔ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق صرف ایک دن میں ملک بھر میں نو ہزار سے زائد پروازیں متاثر ہوئیں، جن میں سے اکثر نیویارک، نیوجرسی اور کنیکٹی کٹ کے ہوائی اڈوں سے تھیں۔ جان ایف کینیڈی، لا گارڈیا اور نیوارک ایئرپورٹس پر سینکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جس سے کرسمس اور نئے سال کی چھٹیوں میں سفر کرنے والے لاکھوں مسافر پریشان ہوگئے۔ ایئرلائنز نے پیشگی منسوخیوں کا اعلان کیا تاکہ مزید خلل سے بچا جا سکے۔
حکام کی تیاریاں اور وارننگیں
نیشنل ویدر سروس نے نیویارک، کنیکٹی کٹ اور دیگر ریاستوں میں برفانی طوفان کی وارننگ جاری کی۔ نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل نے متعدد کاؤنٹیوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی، جبکہ نیوجرسی میں بھی ایمرجنسی کا اعلان ہوا۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی اور سڑکوں کی صفائی کے لیے پلاؤ مشینیں تیار رکھیں۔ طوفان کے بعد درجہ حرارت مزید گرنے کا امکان ہے جس سے سڑکوں پر برف جم سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں شدید دھند کے باعث حدنگاہ متاثر، موٹرویز مختلف مقامات سے بند
ممکنہ مستقبل کے اثرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ طوفان کا سب سے شدید حصہ گزر چکا ہے مگر کچھ علاقوں میں ہلکی برفباری جاری رہ سکتی ہے۔ اگلے دنوں میں درجہ حرارت بڑھنے سے برف پگھل سکتی ہے لیکن مسافروں کو اب بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ یہ طوفان کرسمس کے بعد سفر کے مصروف ترین دنوں میں آیا جس سے ہوائی سفر پر بھاری اثرات پڑے۔ حکام شہریوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ گھر سے باہر نکلنے سے پہلے موسم کی تازہ اطلاعات حاصل کریں۔
